free glitter text and family website at FamilyLobby.com
VOTED AS NO 1 on FACEBOOK.........TWITTER.............TUMBLER

Monday, 21 May 2012

DAILY SADA-E-GHAZI22ND EDITION 22/05/2012

 
 افغانستان کو 20ملین ڈالرز امداد دینے کا اعلان
 صدر آصف زرداری کا افغانستان کو 20ملین ڈالرز امداد دینے کا اعلان 5ملین ڈالرز افغان نیشنل سیکیورٹی فورسز، 15ملین تربیت اور سامان کیلئے ہیں،پاکستان افغانستان میں امن چاہتا ہے صدر آصف علی زرداری نے ان خیا لات کا اظہار شکاگو میں جاری نیٹو کانفرنس کے دوسے روز سربراہی اجلاس سے خطاب کے دوران کیا۔

صدر زرداری نے کہا کہ خطے میں معاشی ترقی کیلئے خودکوہراقدام میں شامل کرناچاہتے ہیں افغانستان ٹرانزٹ ٹریڈ کو تاجکستان اور دیگر ممالک تک پھیلانے کا اتفاق اس بات کا ثبوت ہے ۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے میں کردار ادا کرتے رہیں گے،ہماری فوج آج بھی دہشت گردوں سے مقابلہ کررہی ہے۔ صدر زرداری نے کہا کہ سلالہ چیک پوسٹ پر حملے سے دہشت گردوں کیخلاف ہمارے اقدامات کو دھچکا لگا ہے۔

صدر زرداری نے نیٹو سپلائی کے حوالے سے کہا کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں نے اس حوالے سے پارلیمنٹ میں تعاون کے جائزے کی بات کی ہے۔ پارلیمنٹ نے نیٹو اورایساف کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے مستقبل کا روڈ میپ دیا ہے۔ تمام جمہوری قوتوں نے پارلیمانی فیصلے کی تائید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پارلیمنٹ اورجمہوری اداروں کے فیصلوں پر عمل کے پابندہیں۔ تعلقات کادارومدر باہمی احترام اور خودمختاری پر منحصر ہے۔

صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ مذاکرات کے اختتام پر دفاعی کمیٹی نے متعلقہ افسران کوزمینی رابطوں کی بحالی کے احکامات دیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خطے کو غیرمستحکم کرنے والے غیرملکی جنگجوؤں، بیرونی عناصر کو پارلیمان نے نکال باہر کرنے کیلئے کہا ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے مدد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کیساتھ جہالت،غربت،منشیات کے خلاف بھی جنگ کی ضرورت ہے۔
 مہران بیس حملہ:تین افسران کو کورٹ مارشل کے بعد سزا
 مہران بیس حملہ کیس ۔پاک بحریہ کے تین افسروں کو کورٹ مارشل کے بعد سزا سنادی گئی۔ مہران بیس حملہ کیس کے تحقیقاتی بورڈ نے مہران بیس کے کمانڈر سمیت تین افسران کے خلاف کورٹ مارشل کی سفارش کی تھی ۔

ذرایع کے مطابق ریئر ایڈ مرل سطح کے بورڈ نے اس کیس کی تحقیقات کیں جس میں بحریہ کے تین افسران کو غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے اور فرائض سے غفلت کا مرتکب پایا گیا ۔ تینوں افسران بیس کمانڈر راجہ طاہر، کمانڈنگ افسر اسرار اور سیکورٹی افسر لیفٹینٹ کمانڈر ابصار کے خلاف تحقیقاتی رپورٹ بحریہ کے چیف کو منظوری کے لیے بھجوادی گئی ہے۔ یاد رہے کہ دہشت گردوں نے مہران بیس پر حملہ کرکے دو پی تھری سی اورین طیارے تباہ کردیے تھے۔
 ترکی کے وزیراعظم عالم اسلام کے سفیر ہیں، چوہدری نثار


قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان نے ترک وزیراعظم رجب طیب اردوان کے دورے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اورترکی دو الگ ملک ضرور ہیں مگرروحانی لحاظ سے ایک قوم ہیں جو ہر اچھے برے وقت میں ہمیشہ ساتھ رہیں گے، ترکی کے وزیراعظم عالم اسلام کے حقیقی سفیر ہیں، ہم ان کے ذریعے مغربی دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اسلامی ممالک، ان کی تہذیب اور ثقافت کا احترام کیا جائے۔ پیر کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ترک وزیراعظم کا خیر مقدم کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ترکی پاکستان کا حقیقی بلکہ بہت ہی پیارا دوست ملک ہے، مشکل وقت میں ترکی کے وزیراعظم کا دورہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ کیونکہ پاکستان ان دنوں طوفانوں میں گھرا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترک وزیراعظم کی موجودگی میں اپوزیشن نے سیاسی اختلافات بالائے طاق رکھ دیئے، ہم نے یک آواز ہو کر اپنے معزز مہمان کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے بارے میں ترکی کے عوام کے جذبات سے آگاہ ہیں، پاکستان کے عوام بھی ترکی کو حقیقی اور آزمودہ دوست سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام ترکی کی کامیابیوں پر فخر کرتے ہیں، میں نے متعدد بار ترکی ملک کا دورہ کیا ہے، دنیا کے کسی ملک میں بھی پاکستانیوں کو ترکی جیسی پذیرائی حاصل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی پاکستانی ترکی کے بازاروں، دفاتر اور کہیں بھی اجنبی نہیں ہے۔ گزشتہ ساٹھ سالوں سے ترکی ہو یاپاکستان دونوں ممالک میں تمام حکومتوں نے باہمی تعلقات کو مستحکم بنانے پر ہمیشہ توجہ مرکوز رکھی۔ انہوں نے ترک وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے دور میں پاک ترک دوستی میں بے مثال بہتری آئی ہے جسے ہم کبھی فراموش نہیں کرینگے۔
پاکستان کے ساتھ تھے ،ہیں اور رہیں گے ،طیب اردگان
ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ پاکستان اور ترکی کے تعلقات ہر مشکل وقت میں آزمودہ ہیں اور انہیں مستحکم بنانے کیلئے سمندری، فضائی اور زمینی راستوں سے نقل و حمل کو بڑھانا ہو گا، پاکستان دہشت گردی کیخلاف جنگ میں تنہا نہیں ہے ہم اس جدوجہد میں اس کے ساتھ ہیں اور آئندہ بھی ساتھ رہیں گے، پارلیمنٹ ایوان کی نمائندہ ہے اس کے سامنے کوئی طاقت نہیں ٹھہر سکتی، جمہوریت میں حزب اختلاف کا کام صرف بلاوجہ حکومت پر تنقید کرنا اور اسے ہٹانا نہیں بلکہ عوام کے مسائل کی نشاندہی اور حکومتوں کی غلطیوں کی تصحیح اور تعمیری تنقید کرنا ہے، جمہوریت میں فیصلہ سازی کا اختیار عوام کے پاس ہوتا ہے، جمہوری ثقافت دراصل اب کائناتی اور عالمی ثقافت کی شکل اختیارکر گئی ہے،جمہوریت کسی بھی ملک میں آسانی سےنہیں آئی اس کیلئےبڑی طویل جدوجہد کی گئی ہے، جمہویت ملک کی خوشحالی، نوجوان نسل کی درست سمت رہنمائی کیلئے اہم راستہ ہے، جمہوریت کو فروغ دینے کیلئے اقتصادی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانا ضروری ہوتا ہے، ترکی کے سیاسی، سفارتی اور جمہوری استحکام کے پیچھے اس کی اقتصادی ترقی کا ہاتھ ہے۔

 پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ترک وزیراعظم نے کہا کہ ترکی کے عوام کی طرف سے پوری پاکستانی قوم کو سلام پیش کرتے ہیں، پاکستان کی پارلیمنٹ سے دوسری مرتبہ خطاب کا موقع مل رہا ہے جو کہ میرے لئے اعزازہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کی پارلیمنٹ دراصل اس قوم کی نمائندگی کرتی ہیں، پارلیمنٹ جمہوریت میں بنیادی عنصرکی حیثیت رکھتی ہے۔ جمہوریت میں فیصلہ سازی کا اختیار عوام کے پاس ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف نظریات کا حامل ہونے کے باوجود مختلف الخیال سیاسی جماعتیں اور اراکین پارلیمنٹ جمہوری تسلسل کی جانب تیزی سے گامزن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں مشکلات کے باوجود بھرپور توانائیاں پارلیمنٹ کے استحکام کیلئے صرف کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مفادات کا تحفظ کرنے والی پارلیمنٹ بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ اسی وجہ سے اراکین پارلیمنٹ کے کندھوں پر بڑی بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پورا یقین ہے کہ پارلیمنٹ اپنی قوت میں روز بروز اضافہ کرتی رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ جمہوری ثقافت دراصل اب کائناتی اور عالمی ثقافت کی شکل اختیار کر گئی ہے جمہوریت کسی بھی ملک میں آسانی سے نہیں آئی اس کیلئے بڑی طویل جدوجہد کی گئی ہے۔ جمہوریت ملک کی خوشحالی، نوجوان نسل کی درست سمت رہنمائی کیلئے اہم راستہ ہے۔ رجب طیب اردوان نے کہا کہ عوام کی جمہوری اداروں سے توقع وابستہ ہوتی ہے کہ وہ اس کے مسائل حل کریں گے۔ جمہوریت کو فروغ دینے کیلئے اقتصادی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانا ضروری ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں حزب اختلاف کا کام صرف بلاوجہ حکومت پر تنقید کرنا اور اسے ہٹانا نہیں بلکہ عوام کے مسائل کی نشاندہی اور حکومتوں کی غلطیوں کی تصحیح اور تعمیری تنقید کرنا ہے۔ مثبت تنقید کسی بھی جمہوری معاشرے کا حسن ہے۔

 انہوں نے کہا کہ ترکی نے ہمیشہ پاکستان کو اپنا برادر ملک جانا ہے اور یہاں کے عوام کو ہمیشہ اپنا بہن بھائی سمجھا ہے۔ پاکستان کے مفادات ہمارے مفادات اور اس کی خوشی ہماری خوشی ہے۔ ترک وزیراعظم نے کہا کہ ماضی کی مشکلات میں ترکی اور پاکستان کا تعلق اور تعاون دنیا کے سامنے ایک مثال ہے۔ ہمارے درمیان بھائی چارے کے تاریخی تعلقات ہیں۔ ترک وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں ہم اپنے آپ کو اپنے گھر میں محسوس کرتے ہیں، ہم یہاں اپنے رشتہ داروں، بھائیوں کے درمیان اپنے آپ کو محسوس کرتے ہیں۔


پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں تینوں مسلح افواج کے سر براہوں اور چیئر مین جوائنٹ چیف آف آرمی اسٹاف  کے علاوہ پانچوں صوبوں کے گورنر، وزرائے اعلیٰ  اور اسپیکروں نے بھی شرکت کی ۔ اجلاس میں پچاس سے زائد ممالک کے سفیربھی موجود تھے۔ اجلاس شروع ہونے سے قبل پہلے ترکی اور پھر پا کستان کا قومی ترانہ بجا یا گیا۔
 ترک وزیراعظم کا دورہ پاکستان بڑی اہمیت کا حامل ہے،اسپیکر
 


اسپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے ترک وزیراعظم رجب طیب اردوان کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان دوستی کا رشتہ انتہائی قابل قدر ہے، مشکل کی گھڑی میں ترک وزیراعظم کا دورہ پاکستان بڑی اہمیت کا حامل ہے، عالمی امن سے متعلقہ مسائل کے حل کیلئے ترک وزیراعظم کی قابل قدر رہنمائی کا دل سے احترام کرتے ہیں۔

ترک وزیراعظم رجب طیب اردوان کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے موقع پر خیر مقدمی کلمات ادا کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ترک وزیراعظم رجب طیب اردوان پہلے غیر ملکی وزیراعظم ہیں جنہیں پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے دو مرتبہ خطاب کا موقع حاصل ہوا ہے جو دونوں ممالک کے درمیان موجود باہمی اعتماد کا مظہر اور دونوں ممالک کے درمیان قریبی دوستی کا عکاس ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترکی اور پاکستان دونوں اقوام ایک ہی سانچے میں ڈھلے ہوئے ہیں، دونوں ممالک مذہبی، روحانی اور ثقافتی رشتوں میں بندھے ہیں اور دونوں ممالک کی مشترکہ تاریخ ہے۔ دونوں ممالک نے ہر مشکل، خوشی اور غمی میں ہمیشہ ایک دوسرے کاساتھ دیا ہے۔ پاکستان اورترکی کے بانی رہنما عالمی امن اور سلامتی کے حوالے سے یکساں وژن رکھتے تھے اور دونوں جمہوری اقدار کو بڑی اہمیت دیتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی حالیہ عالمی سیاست میں ترکی اور پا کستان کی جمہوری قیادت نے ایک دوسرے کی ہمیشہ حمایت کی اور ہم عالمی دہشت گردی اور اس کی بنیادی وجوہات کے مسئلے کے حل کیلئے معاشی اور سماجی ترقی کے ذریعے مشترکہ سوچ رکھتے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ کی سہ فریقی مذاکرات پر گہری نظر ہے اور ارکان پارلیمنٹ نے باقاعدگی سے اس میں شرکت کی ہے۔ ہم خاص طور پر ترکی کی باصلاحیت قیادت سے متاثر ہیں جس سے انہوں نے معاشی اورسیاسی ترقی کی ہے جو ترکی کی پاکستان کے باہمی تجارت اور سرمایہ کاری سے بھی عیاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی اور پوری پارلیمنٹ کی طرف سے ترکی کے بھائیوں اور بہنوں کی 2010-11ء کے سیلابوں کی تباہ کاریوں کے دوران فراخدلانہ امداد پر شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس انسانی المیہ میں ترکی کی امداد کو فراموش نہیں کر سکتے۔
 ترکی نے مشکل کی گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا، وزیراعظم
 وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نےترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردوان کے پاکستانی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے دوسری بار خطاب کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی نے مشکل کی گھڑی میں ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا ہے، پاک ترک تعلقات اور دوستی ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے، ترک وزیراعظم کے دورہ پاکستان سے دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کے رشتے مزید مستحکم ہوں گے۔ وہ پیر کو ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردوان کے پارلیمنٹ سے خطاب کے بعد اظہار خیال کر رہے تھے۔

وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ 3 سالوں میں ترکی کے وزیراعظم کا پاکستانی پارلیمنٹ سے دوسرا خطاب ہے جس سے پاک ترک دوستی میں ایک اور سنگ میل کا اضافہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1947ء کے بعد پاکستان اور ترکی کے درمیان تعلقات قائم ہوئے جو وقت کے ساتھ ساتھ مستحکم ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنے خطاب میں حضرت علامہ اقبال کے اشعار بھی پڑھے جن کا انہوں نے فارسی، اردو اور انگلش میں ترجمہ بھی پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ ترکی کی قومی اسمبلی میں میرا جو استقبال کیا گیا تھا وہ مجھے ابھی تک یاد ہے۔ پاک ترک عوام کے درمیان باہمی اعتماد کے رشتے سے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا ر شتہ مزید مستحکم ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال پاکستان اور ترکی کے درمیان تجارت کا حجم ایک ارب ڈالر تھا جبکہ رواں سال یہ بڑھ کر2 ارب ڈالر ہو جائے گا۔ کرنسی تبادلے کے معاہدے سے اقتصادی شعبے میں مزید بہتری آئے گی۔ دونوں ممالک کے مشترکہ وزارتی کمیشن ایچ ایل سی سی فورم کا پہلا اجلاس دسمبر 2010ء میں انقرہ میں ہوا تھا۔ ہم اس پارٹنر شپ کو مزید بلندیوں سے ہمکنار کرنا چاہتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ 2010ء میں پاکستان میں تباہ کن سیلاب کے موقع پر ترکی کے عوام نے پاکستان کے مصیبت زدہ بہن بھائیوں کی جو مدد کی وہ ہم کبھی فراموش نہیں کر سکتے۔ ا نہوں نے کہا کہ ترکی کا ریلیف ورک بے مثال تھا۔ ترک وزیراعظم رجب طیب اردوان نے مصروفیات ترک کر کے مشکل کی اس گھڑی میں پاکستان کا دورہ کیا۔ انہوں نے ترک وزیراعظم کا دونوں ایوانوں کی جانب سے دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا۔ آخر میں انہوں نے ترکی زبان میں پاک ترک دوستی کا نعرہ بھی لگایا۔

No comments:

Post a Comment