free glitter text and family website at FamilyLobby.com
VOTED AS NO 1 on FACEBOOK.........TWITTER.............TUMBLER

DAILY SADA-E-GHAZI 11/05/2012

نوابزادہ میر سراج رئیسانی کے خلاف بدزبانی کا جواب دینا آتا ہے میر اسمعیٰئل رئیسانی 
حیر بیار مری کے بیان کی شدید الفاط میں مذمت 
نوابزادہ میر سراج رئیسانی کی قیادت پر فخر ہے بلوچستان متحدہ محاذ بولان و سبی کی جانب سے بھی مذمت 
سبی(نامہ نگار) نوابزادہ میر سراج رئیسانی کے خلاف ایک ایسے شخص کی جانب سے جو کہ چوبیس گھنٹے نشے میں دھت رہتا ہے اور لنڈن کی نائیت کلبوں اور براطنی لڑکیوں کے ساتھ اسکے رنگ رلیاں اسکے بھائی کی ہم جنس پرستوں کی تنظیم کی حمایت اور اس تنطیم کی سربراہی کرنیوالے کردار کبھی بھی اسلام کا نام لیکر بلووچ عوام کو گمراہ نہین کرسکتے دنیا کو معلوم ہے کہ نوابزادہ سراج رئیسانی نے بلوچ عوام اور ملک و قوم کے لیئے اپنے پیارے بیٹے نوابزادہ میر حقمل رئیسانی کی جان کا نذرانہ دیا اور یہ نزرانہ پاکستان کی بقاء کے لیئے دیا گیا 
ان خیالات کا اظہار بلوچستان متحدہ محاذ کے رہنماء میر اسمٰعیل رئیسانی نے اپنے بیان مین کیا انہوں نے کہا کہ حیر بیار مری ایک ایسا شخص ہے جسے کوہلو کے عوام نے مسترد کردیا ہے 
اور وہ ایک بیکار لفافے کی طرح ہیں جس پر ٹکٹ تو لگے ہین لیکن اسکی میاد کتم ہوچکی ہے دنیا کو پتہ ہے کہ ھیر بیار اپنی وزارت کے دوئران سب سے زیادہ کرپٹ وزیروں مین شمار ہوتا تھا اور اس نے اپنے دفتر مین بلوچ زبان پہ پابندی لگائی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ حیر بیار کی کوئیٹہ مین کوئی رہائش نہیں بلکہ ایک گھر جو کہ ارباب کرم کان روڈ پہ تھا اس مین دہشتگرد تھے جنہوں نے ایک قبائلی رہنماء کے گھر پہ ھملہ کیا جسکے نتیجے میں بارہ افراد شہید ہوئے دنیا کو پتہ ہے کہ اس گھر سے نہتے شہریون پہ فائرنگ ہوتی رہی اور بلوچ عوام اس پر سرپا احتجاج ہوئے تین دن تک اھتجاج رہا اور بلوچ عوام نے بی ایل اے کے خلاف کاروبار بند کردیا 


حیر بیار مری کے بیان کی مذمت کرتے ہیں بلوچ یوتھ کونسل لنڈن
لنڈن میں حیر بیار مری کے کارنامے سب کو معلوم ہیں واجہ میر ہزر خان بلوچ 
لنڈن(پ۔ر) حیر بیار مری ا یک مجرم جسٹس نواز مری سمیت سینکڑوں بلوچوں کا قاتل ہے اسکی گندی زبان سے اسلام کا نام لینا مسلمانوں کو گمراہ کرنیکے مترادف ہے 
ان خیالات ک�آطہار بلوچ یوتھ کو نسل لنڈن کے کے چیئر واجہ میر ہزر خان مری بلوچ نے ایک ہناگمی میٹنگ سے کطاب کرتے ہوئے کیا انہون نے کہا کہ دو ہفتہ قبل اسی ھیر بیار منافق نے ایک بیان دیا تھا جس مین قرآن پاک کی بیھرمتی کرنیوالے نیٹو کے فوجویں کی تعریف کی تھی انہوں نے کہا کہ حیر بیار بلوچون کا مجرم ہے اسکی تمام کرتوتوں کو جانتے ہین لنڈن میں عیاشیان کرینوالا ھیر بیار بلوچ قوم کو گرماہ نہیں کرسکتا ۔ وہ بلوچون کا قاتل ہے اسکے بیان کی مزمت کرتے ہین اور مطالبہ کرتے ہین کہ اسے گرفتار کرکے قرار واعی سزا دی جائے کیان کہ وہ کئی بم دھماکوں میں ملوث ہے وہ خود شیاطن کی مدد کا بیان دے چکا ہے جس مین اس نے اﷲ تعالیٰ سے لاتعلقی کا اطہار کیا تھا یہ وہ بند ہ ہے جس نے لندن میں بیٹھ کر کئی بیگناہ بلوچوں کا مروایا ہے ۔ بلوچ یوتھ کونسل ایسے غندوں کو جانتی ہے اور انہین پتہ ہونا چاہیئے کہ انکا گھر المشرق لائین دہشتگردی کا اڈہ تھا اور بی ایل اے کا نجی جیل تھا اور وہان سے کئی بیگناہ بلوچوں کو اغوا کرکے انکی مسخ شدہ لاشین بھیجی جاتی تھیں 


ہمیں بلوچیت اور اسلام کا درس دینے والے اپنے سابقہ بیانات پہ غور کریں نوری نصیر خان پینل 
حیر بیار مری بوکھلاہٹ کا شکار ہیں وہ بلوچ قوم اسلام کے مجرم ہیں انکی گندی زبان سے یہ باتیں سن کر شرم آتی ہے بانک شہناز بلوچ 
حیر بیار مری کے گھر میں دہشتگرد چھپے تھے اور انہوں نے بارہ بیگناہ بلوچوں کو قتل کیا 
قلات ریاست(پ۔ر) ہمیں بلوچیت کا درس دینے والے ھیر بیار مری بلوچ قوم کے قاتل بی ایل اے کے کمانڈر ہیں جنہوں نے ہزاروں بلوچوں کی بچیوں کو تل کروایا انہیں 
اپنی حوس کا نشانہ بنوایا اور ہر روز بلوچوں کو قتل کروا رہے ہین جبکہ وہ یاک بلوچ جج کے قاتل ہیں کئی بم دھماکوں میں ملوث اور جان سلوکی اقوام متحدہ کے کونسل کے اغوا میں بھی ملوث ہیں 
بلوچ اکابرین میر شیفق الرحمان مینگل کے اوپر الزامت لگانیوالے خود اپنے گریبان مین جھانکیں میر شفیق الرحمان مینگل سابق وزیر اعلیٰ کے بیٹے ہیں اور مینگل قبیلے کے سربراہ ہیں انہیں 
اﷲ تعالیٰ نے سب کچھ دیا ہے جبکہ وہ حیر بیار جو دربدر اور غیر وں کے ٹکڑوں پہ پل رہا ہے وہ اپنی گندی زبان سے اسلام کا نام کیسے لیتا ہے جس نے دو ہفتے قبل قرآن پاک کی بیحرمتی پر اپنے ایک بیان مین کھلے عام نیٹو افواج کی نہ صرف حمایت کی بلکہ اس عمل کو جائز قرار دیا ۔ وہ جتنا بھی جھوٹ بولے بلوچ قوم ان سے نفرت کرتے ہیں اور ہم یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ آج بھی بلوچ قوم پوری طرح تیار ہے اگر یہ منافق اور بلوچ قوم کا قومی مجرم یہان اس سرزمین پہ آیا تو یہ اسکی موت ہوگی اور اسکے کارندوں کو بلوچ قوم کبھی بھی معاف نہیں کریگی ۔ وہ آدمی کہ جسکی ایماء پر بلوچ خواتین کی عزتیں لوٹی جارہی ہیں وہ کس طرح اور کس منہ 
سے بلوچ بلوچ کا نعرہ لگاتا ہے ؟ وہ کس طرح اپنے آپ کا اسلام کا نام اتعمال کرکے پاک صاف کرتا ہے جس نے کھلے عام کہا تھا کہ شیطان سے مدد لیں گے وہ مرتد ہے اور اسلام کے نام سے کہیں دور ہے



ہمیں بلوچیت اور اسلام کا درس دینے والے اپنے سابقہ بیانات پہ غور کریں نوری نصیر خان پینل 
حیر بیار مری بوکھلاہٹ کا شکار ہیں وہ بلوچ قوم اسلام کے مجرم ہیں انکی گندی زبان سے یہ باتیں سن کر شرم آتی ہے بانک شہناز بلوچ 
حیر بیار مری کے گھر میں دہشتگرد چھپے تھے اور انہوں نے بارہ بیگناہ بلوچوں کو قتل کیا 
قلات ریاست(پ۔ر) ہمیں بلوچیت کا درس دینے والے ھیر بیار مری بلوچ قوم کے قاتل بی ایل اے کے کمانڈر ہیں جنہوں نے ہزاروں بلوچوں کی بچیوں کو تل کروایا انہیں 
اپنی حوس کا نشانہ بنوایا اور ہر روز بلوچوں کو قتل کروا رہے ہین جبکہ وہ یاک بلوچ جج کے قاتل ہیں کئی بم دھماکوں میں ملوث اور جان سلوکی اقوام متحدہ کے کونسل کے اغوا میں بھی ملوث ہیں 
بلوچ اکابرین میر شیفق الرحمان مینگل کے اوپر الزامت لگانیوالے خود اپنے گریبان مین جھانکیں میر شفیق الرحمان مینگل سابق وزیر اعلیٰ کے بیٹے ہیں اور مینگل قبیلے کے سربراہ ہیں انہیں 
اﷲ تعالیٰ نے سب کچھ دیا ہے جبکہ وہ حیر بیار جو دربدر اور غیر وں کے ٹکڑوں پہ پل رہا ہے وہ اپنی گندی زبان سے اسلام کا نام کیسے لیتا ہے جس نے دو ہفتے قبل قرآن پاک کی بیحرمتی پر اپنے ایک بیان مین کھلے عام نیٹو افواج کی نہ صرف حمایت کی بلکہ اس عمل کو جائز قرار دیا ۔ وہ جتنا بھی جھوٹ بولے بلوچ قوم ان سے نفرت کرتے ہیں اور ہم یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ آج بھی بلوچ قوم پوری طرح تیار ہے اگر یہ منافق اور بلوچ قوم کا قومی مجرم یہان اس سرزمین پہ آیا تو یہ اسکی موت ہوگی اور اسکے کارندوں کو بلوچ قوم کبھی بھی معاف نہیں کریگی ۔ وہ آدمی کہ جسکی ایماء پر بلوچ خواتین کی عزتیں لوٹی جارہی ہیں وہ کس طرح اور کس منہ 
سے بلوچ بلوچ کا نعرہ لگاتا ہے ؟ وہ کس طرح اپنے آپ کا اسلام کا نام اتعمال کرکے پاک صاف کرتا ہے جس نے کھلے عام کہا تھا کہ شیطان سے مدد لیں گے وہ مرتد ہے اور اسلام کے نام سے کہیں دور ہے 




بانک واضل اغوا کے چار روز بعد مسخ شدہ لاش بر آمد 
خاتون کو بانک نعیمہ کے ساتھ بی ایل اے والوں نے اغوا کیا تھا 
بانک واضل کو شدید تشدد کیا گیا اور اجتمائی زیادتی کی گئی میڈم رابعہ بلوچ 
بولان (نامہ نگار) بولان سے چار روز قبل بکریاں چروانے والی کاتون کی تشدد شدہ لاش برآمد ہوئی ہے انکی لاش پہ تشدد کے نشانات ملے ہیں ۔یہاں آمدہ اطلاعات کے 
مطابق بانک واضل بی بی کو اجتمائی زیادتی کا نشانہ بناکر پھینکا گیا ۔ چار روز قبل اغوا ہونیوالی بلوچ کاتون کو اسلیئے اگوا کیا گیا کہ وہ ایک لیویز والی کی بیٹی تھی ۔ بی ایل اے کمانڈر نورلدین رند نے انہین انکی سہیلٰ بانک نعیمہ کے ساتھ اغوا کیا تھا ۔
بلوچ تحریک برائے انسانی ھقوق کی چیئر پرسن میڈم رابعہ بلوچ نے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچیت کے نام پہ ظلم ہو رہا ہے اور کسی کی عزت محفوظ نہیں اور بلوچوں کے ہاتھوں ہی ایسے واقعات کا رونماء ہونا بلوچی روایات کے اوپر دھبہ ہے ۔ میڈم رابعہ بلوچ نے کہا کہ کوئی بھی بلوچ اسطرح کی درندگی نہیں کرسکتا یہ ان لوگوں کا کام ہے جو اسلام سے دور انسانیت سے دور جانوروں کی زندگیی بسر کر رہے ہیں اور جانوروں سے بھی گندے لوگ ہیں ۔ میڈم رابعہ بلوچ نے انسانی حقوق والوں سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ کہان گئے وہ انسانیت کے دعویدار اور چیمپئین جو آئے روز بیانات دیتے تھے 



لوڈشیڈنگ کیخلاف احتجاج،شہبازشریف بھی کود پڑے


بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف مظاہروں اور احتجاج میں مسلم لیگ ن کی قیادت بھی شامل ہوگئی۔ پنجاب کے وزیر اعلی شہباز شریف نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن اب بجلی کے ستائے عوام کے ہمراہ اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کریگی۔ صوبہ پنجاب سمیت ملک بھر میں لوڈ شیڈنگ کا عذاب جاری ہے ۔ پنجاب کے مختلف علاقوں میں بجلی کے مارے شہریوں کا پیمانہ صبر لبریز ہوگیا اور پھر شہر شہر احتجاج ہوا،، ماردھاڑ سے بھرپور احتجاج کے دوران مظاہرین اورپولیس میں جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔ وہاڑی میں مشتعل افراد نےواپڈا کے دفاتر کو آگ لگا دی۔

ملک بھر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے باعث عوام کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے ۔ ساڑھے سات ہزار میگا واٹ کے شارٹ فال کے باعث شہروں میں ہر تین گھنٹے اور دیہات میں بیس بیس گھنٹے بجلی غائب ہے جس کی وجہ سے عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تو پھر شہریوں کے پاس احتجاج کے سوا کوئی چارہ کار نہیں رہا ۔ پنجاب کے مختلف شہروں میں لوڈشیڈنگ کے ماروں نے احتجاج کیا اور سڑکوں پرنکل آئے ۔ کہیں مارکٹائی ہوئی تو کہیں جلاؤ گھیراؤ ۔ کہیں شیشے توڑے گئے تو کہیں ٹائر جلا کر روڈ بلاک کردیئے گئے ۔ 

وہاڑی میں مشتعل افراد نے سیاسی رہنماؤں کے دفاتر اور واپڈا کمپلیکس پر دھاوا بول دیا اور دفاتر،سرکاری جیپ، درجنوں موٹر سائیکلوں کو جلادیا ۔۔ پولیس کے روکنے پر مشتعل افراد نے ڈی پی او آفس میں داخل ہونے کی کوشش کی جس پر پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کی شیلنگ کے ساتھ ہوائی فائرنگ بھی کی اس دوران سڑکیں میدان جنگ کامنظر پیش کر رہی تھیں ۔ مظاہرین بھی پیچھے نہیں رہے اورپولیس پر پتھراؤ کردیا ۔۔ جھڑپوں میں کئی مظاہرین اور پولیس اہلکار زخمی ہوئے ۔ 

منڈی بہاؤالدین میں بھی ایکسین واپڈ اکےدفتر پرلوڈشیڈنگ کے ستائے افراد نے حملہ کردیا اور زبردست توڑ پھوڑ کی ۔ مظاہرین نے پتھراؤ کرکے عمارت کےشیشے توڑ دئیے ۔۔اس موقع پر پولیس لاٹھی چارج سے متعدد مظاہرین زخمی ہوئے ۔ شیخوپورہ ،جہلم،سرگودھااورپیرمحل سمیت متعدد شہروں میں تاجروں نے شٹرڈاؤن ہڑتال کی ۔ تاجروں کا کہنا ہے لوڈشیڈنگ نے ان کا کاروبار تباہ کردیا ہے۔ 

لوڈشیڈنگ سے کئی شہروں میں پانی کا بحران بھی پیدا ہوگیا ہے ۔۔۔پاکپتن میں خواتین نے گھڑے اٹھا کر احتجاج کیا۔ فیصل آباد،،خوشاب ،میانوالی، گوجرانوالہ، گجرات ،گوجرہ ، سیالکوٹ ، اوکاڑہ سمیت کئی شہروں میں بھی احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور ریلیاں نکالی گئیں۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ بجلی کی غیراعلانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ فوری طور پر ختم کی جائے۔

کوئٹہ: پولیس موبائل کے قریب دھماکا، اہلکار جاں بحق

کوئٹہ میں پولیس موبائل پر بم حملے میں ایک اہلکار جاں بحق اور تین زخمی ہوگئے۔ واقعہ کوئٹہ کے نواحی علاقے قمبرانی روڈ پر پیش آیا۔ پولیس موبائل معمول کے گشت پر تھی کہ اچانک دھماکا ہوگیا۔ 

دھماکے میں زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں کو بی ایم سی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے لیا او تفتیش شروع کردی۔ اطلاعات کے مطابق دھماکا سڑک کے کنارے نصب ریموٹ کنٹرول بم کا تھا۔ 

No comments:

Post a Comment