free glitter text and family website at FamilyLobby.com
VOTED AS NO 1 on FACEBOOK.........TWITTER.............TUMBLER

DAILY SADA-E-GHAZI 04/05/2012













click the news to read











تازہ ترین باجوڑ ایجنسی: دھماکے میں سترہ افراد ہلاک پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں حکام کے مطابق ایک دھماکے میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت کم از کم سترہ افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہو گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں باجوڑ لیویز کے کمانڈنٹ اور ڈپٹی کمانڈنٹ بھی شامل ہیں۔ باجوڑ ایجنسی میں پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران یہ تیسرا دھماکہ ہے۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق یہ واقعہ جمعہ کی صبح باجوڑ کے صدر مقام خار بازار میں پیش آیا۔ باجوڑ کے ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ باجوڑ لیویز کے کمانڈنٹ اور ڈپٹی کمانڈنٹ خار بازار سے گزر رہے تھے کہ اس دوران ایک دھماکہ ہو گیا۔ ابھی تک دھماکے کی نوعیت کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا۔ بعض مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ایک ’خودکش حملہ‘ تھا تاہم ابھی تک حکام سے اس بات کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔ اہلکار کے مطابق دھماکے میں کم سے کم سترہ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ اہلکار کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں لیویز کے کمانڈنٹ صوبیدار میجر محمد جاوید، ڈپٹی کمانڈنٹ فضل ربی، سرکاری محرر فدا محمد، مقامی ٹھیکیدار اور عام شہری شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ کے بعد سکیورٹی فورسز نے خار بازار کو چاروں اطراف سے گھیرے میں لے کر کرفیو نافذ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ بازار سے کافی دیر تک فائرنگ کی آوازیں آتی رہی۔ ان کے مطابق کرفیو کی وجہ سے خار بازار فوری طور پر بند ہوگیا جس کی وجہ سے دکاندار اور عام شہری دکانوں اورگھروں کے اندر محصور ہوگئے ہیں۔ باجوڑ کے مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ بظاہر لگتا ہے کہ حملے کا ہدف لیویز کے اعلیٰ اہلکار تھے۔ انہوں نےکہا کہ ڈپٹی کمانڈنٹ فضل ربی کو شدت پسندوں کے خلاف کامیاب کارروائیوں پر تمغۂ شجاعت سے بھی نوازا گیا تھا۔ خیال رہے کہ باجوڑ ایجنسی میں پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران یہ تیسرا دھماکہ ہے۔ جمعرات کو پاک افغان سرحدی تحصیل چمرکند میں بھی بیس منٹ کے وقفے کے دوران دو دھماکے ہوئے تھے جس میں قبائلی مشران اور سکیورٹی اہلکاروں سمیت پانچ افراد ہلاک اور دو زخمی ہوئے تھے۔ اس دھماکے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے قبول کرلی تھی۔ ان کاکہنا تھا کہ دھماکے کا ہدف قبائلی لشکر کے افراد تھے۔

 ..رپورٹر ...................................................... -ر)حکومت نے جمعرات کوا کثرتی رائے سے جنوبی پنجاب کے نام سے نیا صوبہ بنانے کی قرارداد قومی اسمبلی سے منظور کرالی ہے۔ مسلم لیگ (ن) جو وزیراعظم کو توہین عدالت کیس میں سزا ملنے پر احتجاج کر رہی تھی انہوں نے اس موقع پر شدید نعرہ بازی کرتے ہوئے ہنگامہ آرائی کی۔ اسی بارے میں ’سرائیکی صوبہ، عوام کی محرومیوں کا حل‘ سرائیکی صوبے پر مشاورت شروع کریں: زرداری ’سرائیکی عوام اپنا الگ صوبہ چاہتے ہیں‘ متعلقہ عنوانات پاکستان, سیاست وزیر قانون فاروق نائک نے قوائع معطل کرکے جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کی قرارداد منظور پیش کی۔ جس میں کہا گیا ہے کہ جنوبی پنجاب کی عوام کو سیاسی، انتظامی اور اقتصادی حقوق دینے کے لیے جنوبی پنجاب پر مشتمل نیا صوبہ بنایا جائے۔ انہوں نے ایک اور قرارداد بھی پیش کی جو وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی پر اعتماد کا اظہار کرنے کے بارے میں تھی اور وہ بھی اکثرتی رائے سے منظور کر لی گئی۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو آئینی اور قانونی وزیراعظم تسلیم کرتا ہے اور انہوں نے تین بار عدلیہ کے سامنے پیش ہوکر عدلیہ کا احترام کیا ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم کی نا اہلی کے لیے آئینی طریقہ کار پر یقین رکھتا ہے اور کوئی دوسرا طریقہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق ایک موقع پر عابد شیر علی اور اخونزادہ چٹان میں ہاتھا پائی بھی ہوئی لیکن دونوں جانب کے اراکین نے بیچ بچاؤ کیا۔ مسلم لیگ (ن) کے اراکین سپیکر کے روسٹرم کے آگے اور وزیراعظم کی نشست پر ‘گو گیلانی گو اور قوم بھوکی مار دی ہائے پیپلز پارٹی‘ کے نعرے لگاتے رہے۔ کئی اراکین نے کتبے بھی لہرائے اور تمام اراکین نے بازؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ رکھی تھیں۔ دونوں قرادادوں کی منظوری کے بعد ڈپٹی سپیکر فیصل کریم کنڈی نے ایوان کی کارروائی جمعہ کی صبح دس بجے تک ملتوی کردی۔ جمعرات کو ایوان کی کارروائی مقررہ وقت سے سوا دو گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوئی کیونکہ حکومت اپنے حامی اراکین کی بھرپور حاضری کو یقینی بنانا چاہتی تھی۔ اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ حکومت جنوبی پنجاب کا صوبہ بنانے کی شعبدہ بازی کر رہی ہے تاکہ اصل مسائل سے توجہ ہٹائی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ دو تین بار جب آئین میں ترمیم ہوئی اس وقت جنوبی پنجاب کی قرارداد کیوں نہیں لائی گئی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ مسلم لیگ (ن) جمعہ کو جنوبی پنجاب، بہاولپور، ہزارہ اور فاٹا کے نئے صوبے بنانے کے لیے باضابطہ قرارداد لائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی سنجیدگی کو قوم کو پتہ چل جائے گا۔ واضح رہے کہ توہین عدالت کے مقدمے میں وزیراعظم کو ملنے والی سزا کے خلاف مسلم لیگ (ن) پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں سراپا احتجاج ہے اور گزشتہ چار روز سے کارروائی میں خلل ڈالتی ہے۔ ان کے اراکین تلاوت اور اذان کے وقت خاموش رہتے ہیں لیکن باقی کارروائی کے دوران نعرہ بازی اور ہلڑ بازی کرتے ہیں۔ ........................................................................................................................................................

.. ٢-’اڑتالیس گھنٹوں میں ہتھیار پھینک دیں‘ پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے لیاری میں مبینہ جرائم پیشہ افراد کو پیشکش کی ہے کہ وہ آئندہ اڑتالیس گھنٹوں کے اندر ہتھیار پھینک دیں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ ہتھیار پھینکے گے انہیں رعایت دی جائیگی۔ وفاقی وزیر داخلہ نے سندھ کے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ کے ساتھ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ پولیس یا رینجرز کی کسی چیک پوسٹ کے سامنے اپنے آپ کو پیش کرسکتے ہیں۔ ’اس کے بعد سخت ایکشن لیا جائے گا۔‘ کراچی میں بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ نے یہ بھی اعلان کیا کہ کسی بھی گھر سے اگر راکٹ لانچر یا اسلحہ برآمد ہوا تو اس گھر کو آگ لگا دی جائیگی۔ " پولیس نے بغیر انتظامات کے شہد کے چھتوں میں ہاتھ ڈال دیا تھا" رحمان ملک انہوں نے کہا کہ کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ عوام کا سکون اور چین برباد کرے۔ ’ فوج کے پاس اس نوعیت کا اسلحہ موجود ہے مگر اس کی وجوہات ہیں۔ ان شرپسندوں کے پاس یہ اسلحہ کہاں سے آیا؟ انہیں کس نے اور کیوں فراہم کیا؟‘ انہوں نے بتایا کہ اس آپریشن میں پولیس نے بائیس ملزمان کو گرفتار کیا ہے، جن میں سے کئی پر قتل اور اقدام قتل کے مقدمات درج ہیں۔ بقول ان کے پولیس نے بغیر انتظامات کے شہد کے چھتوں میں ہاتھ ڈال دیا تھا مگر اب انتظامات کر لیے گئے ہیں۔ ’ملزمان جو وائرلیس یا تھرایا کے ذریعے رابطہ کر رہے ہیں اس کا حکومت کو پتہ ہے۔‘ انہوں نے بتایا کہ لیاری کے منتخب نمائندوں کی درخواست پر موبائیل ٹیلیفون سروس بحال کردی جائیگی، پانی اور بجلی کی بحالی کے لیے حکام کو ہدایات جاری کی جا رہیں ہیں۔ رحمان ملک کا دعویٰ تھا کہ لیاری کے داخلی راستوں کی نگرانی ہوگی، اس سلسلے میں چار ہیلی کاپٹر فضائی نگرانی کریں گے۔ اس علاقے میں چھتیس کیمرے نصب کیے جا رہے ہیں جن کو پولیس ہیڈ کوارٹر سے جوڑا جائیگا۔ انہوں نے بتایا کہ رینجرز اور پولیس اب ایک منظم ٹارگٹڈ آپریشن کرنے جا رہے ہیں۔ ’میڈیا کو اس سے دور رہنا چاہیے، حکومت خود صحافیوں کی ٹیموں کو دورہ کرانے کے انتظامات کرے گی۔‘ وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ انہیں ایسے نقشے اور کاغذات ملے ہیں جن سے پاکستان کی سالمیت کے خلاف سازشوں کا پتہ چلتا ہے۔ ................................................................................................................................... 

No comments:

Post a Comment