بولان سے دو خواتین کو اغوا کرلیا گیا واقعے کی ایف آئی آر درج
خواتین کو پیر غائیب کے علاقے سے اسوقت اغوا کیا گیا جب وہ بکریاں چرواکے آرہی تھیں
مچھ(نامہ نگار) بولان کے علاقے سے مزید دو خواتین بانک نعیمہ حاتون اور
بانک واضل کو اغوا کرلیا گیا دوں و خواتین بکریاں چرواکے واپس آرہی تھیں کے
نامعلوم مسلح افراد نے
انہیں اسلحے کے زور پر اغوا کرلیا ۔ انکی ایف آئی آر پیر غائیب لیویز تھانہ
پہ درج کروالی گئی ۔ دنوں لیویز اہلاکار مدد جان کی بیٹیاں بتائی جارہی
ہیں ۔ نامہ نگار کے مطابق جب مدد جان سے رابطہ کیا گیا تو اس نے
ہمارے نامہ نگار کو بتایا کہ اسے کئی روز سے بی ایل اے کی طرف سے دھمکیاں
مل رہی تھہیں کہ نوکری چھوڑ کر بی ایل اے کے لیئے کام کروں لہٰذا اسطرح نہ
کرنے پر بی ایل اے کے کمانڈر عبدلنبی بنگلزئی
نے اپنے علقے کے کمانڈر نورلدین رند کے ذرئعیے بچیوں کو اغوا کرلیا ایک
بچی شادی شدہ ہے واضل حاملہ ہے اور شک ہے کہ وہ مر جائیگی اس ننے کہا کہ
قومی گیرت کہاں گئی کہ بلوچوں کی چیاں بھی محفوظ نہیں ہیں اور آئے روز
انہیں اغوا کرلیا جاتا ہے ۔ انہو ں نے کہا کہ اب بلوچ عوام مجبر ہوکر
پہاڑوں پہ ان نام نہاد لوفروں کے خلاف نکلیں گے اور یہ اب ہماری عزت کا
سوال ہے
عوامی حلقوں نے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اس واقعے کے خلاف بی بی
نانی پل پر ایک گھنٹہ ٹریفک بلاک رہا اور رعئیانی قومی اتحاد ، جتوئی
اقوام کے لوگوں اور دیگر افراد نے نعرے بازی کی
اور مجرموں کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اب بلوچ عوام کو مشتعل
اور مجبور کرنیوالے ہاتھ توڑ ڈالیں گے ۔ بچیوں نے والد نے لیویز سے مستعفی
ہونے کا علان کرتے ہوئے کہا کہ اب وہ بندوق اٹھاکے جنگ لڑیں گے اور ایسے
قومی غدارون کو انجام تک پہنچائیں گے جنہو ں نے بلوچ قوم کو بدنام کیا ہے ۔
علاقے کے معتبریں نے انسانی حقوق کمیشن کے نمائیندوں سے مخاطب ہوتے ہوئے
کہا کہ وہ کہاں ہیں کیا انہیں نظر نہیں آتا کہ یہاں پہ کیا ہورہا ہےَ
تازہ ترین
بلوچ وطن میں خون کی ہولی کھیلنے والے عناصر کابل اور بھارت کو چھوڑ کر آکر مقابلہ کریں غاز ی خان بلوچ
براہمدغ نے حال ہی میں بھارت کا خفیہ دورہ کیا ہے یہ بلوچ قوم قوم کے خون کے پیاسے ہیں تحریک نفاذ امن بلوچستان
نورل اور مومن کی قتل کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں
کوئیٹہ(این این آئی) بلوچ وطن میں خون کی ہولی کھیلنے والے عناصر کابل میں
بیٹھے ہیں جبکہ بھارت میں مبئی کے شہر میں بلوچ ریپبلیکن آرمی کے لوگ
ٹریننگ حاصل کر رہے ہیں براہمدغ نے حال ہی میں بھارت کا خفیہ دورہ کیا ہے
ان خیالات اظہار تحریک نفاذ امن بلوچستان کے ترجمان غازی خان بلوچ نے این
این آئی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی بلوچ قوم
کو دھوکہ فریب اور ظلم کا سامنا ہوا ہے یہی لوگ تھے جنہوں نے بلوچ کو بلوچ
سے لڑایا اور پھر اقتدار کے مزے لوٹتے رہے ۔آج بھی انہیں وزیر بنادیں تو یہ
بات کہیں دور چلی جائے گی انہوں نے کہا کہ نورل اور مومن دونوں بی ایل اے
کے لیئے کام کرتے تھے اور بیگناہ بلوچ خواتین کی بیحرمتی میں ملوث تھے
انکے قتل کی زمہ داری قبول کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ بھول جائیں
کہ آزادی کے نام پہ یہ بلوچ قوم کو قتل کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کے صوبے ہلمند میں ایک کیمپ قائم ہے جس میں
تین سو افراد ٹریننگ حاصل کر رہے ہیں ۔ انہیں مالی مدد کون کرتا ہے یہ دنیا
جانتی ہے انہیں اب کچھ بھی نہیں ملے کیوں کہ یہ بے مقصد جنگ میں ناکام
ہوگئے ہیں ہمارے غازیوں نے انہیں شکست سے دوچار کردیا ہے ۔
یہ کیسی آزادی ہے جسکی آڑ میں بلوچ خواتین کو ظلم اور بربریت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے بلوچ تحریک برائے انسانی حقوق بلوچستان
کوئیٹہ(بیورو چیف) بانک واجل بی بی اور اور بانک نعیمہ بی بی کی اگوا کی شدید الافاظ میں مذمت کرتے ہیں اور انکی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے چیف جسٹس جناب افتخار محمد چوہدری، ہوم سیکریٹری بلوچستان وزیر اعلیٰ بلوچستان سے انکی رہائی کی اپیل کرتے ہیں ان خیالات کا اظہار بلوچ تحریک برائے انساںی حقوق کی چیئر پرسن میڈم رابعہ بلوچ نے پیر غائیب واقعہ پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ انسانیت سوز واقعہ ہے اور سراسر ظلم اور زیادتی ہے ۔ ہماری میڈیا سے بھی گذارش ہے کہ اب وہ آزاد میڈیا ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے بیگناہ بلوچ کواتین پر ہونیوالے مظالم پہ آوز اٹھائیں ۔انہوں نے کہا کہ افسوس کہ مییڈیا کی رسائی یہاں تک ممکن نہیں ہے اور جو یہاں ہو رہا ہے وہ کسی کو بھی پتہ نہیں ہے اسلیئے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا یہ پہلا واقع نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی مسلح تنظیموں نے یہان سے بیگناہ خواتین کو اغوا کیا اور انہیں ظلام و زیادتی کا نشانہ بنکر مردہ ھالت میں پھینک دیا
کوئیٹہ(بیورو چیف) بانک واجل بی بی اور اور بانک نعیمہ بی بی کی اگوا کی شدید الافاظ میں مذمت کرتے ہیں اور انکی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے چیف جسٹس جناب افتخار محمد چوہدری، ہوم سیکریٹری بلوچستان وزیر اعلیٰ بلوچستان سے انکی رہائی کی اپیل کرتے ہیں ان خیالات کا اظہار بلوچ تحریک برائے انساںی حقوق کی چیئر پرسن میڈم رابعہ بلوچ نے پیر غائیب واقعہ پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ انسانیت سوز واقعہ ہے اور سراسر ظلم اور زیادتی ہے ۔ ہماری میڈیا سے بھی گذارش ہے کہ اب وہ آزاد میڈیا ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے بیگناہ بلوچ کواتین پر ہونیوالے مظالم پہ آوز اٹھائیں ۔انہوں نے کہا کہ افسوس کہ مییڈیا کی رسائی یہاں تک ممکن نہیں ہے اور جو یہاں ہو رہا ہے وہ کسی کو بھی پتہ نہیں ہے اسلیئے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا یہ پہلا واقع نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی مسلح تنظیموں نے یہان سے بیگناہ خواتین کو اغوا کیا اور انہیں ظلام و زیادتی کا نشانہ بنکر مردہ ھالت میں پھینک دیا
پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ اگر القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کی پاکستان میں موجودگی کے بارے میں کوئی مخصوص انٹیلی جنس اطلاع ہے تو حکومت کو فراہم کی جائے۔
یہ بات انہوں نے پارلیمان کی قومی سلامتی کی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے اپنی امریکی ہم منصب ہیلری کلنٹن کی جانب سے بھارت کے دورے کے دوران ایمن الظواہری کی پاکستان میں موجودگی کے بارے میں دیے گئے بیان پر مزید تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ القاعدہ مشترکہ دشمن ہے اور اگر امریکہ کے پاس کوئی معلومات ہے تو وہ فراہم کی جائے۔
![]() |
| FRIENDS OF LIARI CHAIRMAN HABIB JAN |
فرینڈز آف لیاری کے سربراہ حبیب کراچی میں لیاری آپریشن کے دوران پولیس کو مطلوب فرینڈز آف لیاری کے سربراہ حبیب جان لندن پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ہیں، ان کا نام حکومت پاکستان نے ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کا اعلان کیا تھا۔
لندن سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حبیب جان نے وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک سے مطالبہ کیا کہ اب انہیں اخلاقی طور پر مستعفی ہوجانا چاہیے کیونکہ ان کے کہنے پر کراچی ان کا نام ای سی ایل میں شامل کیا گیا تھا، مگر وہ لندن پہنچ گئے ہیں۔
لیاری میں آٹھ روز تک پولیس نے مبینہ گینگ وار اور بھتہ خوروں کے خلاف آپریشن کرنے کا دعویٰ کیا تھا، جو کوئی کامیابی نہ ملنے پر اچانک بند کردیا گیا تھا۔
اس آپریشن کے سربراہ ایس ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم کا کہنا تھا کہ حبیب جان قتل اور اقدام قتل کے سات مقدمات میں مطلوب ہے۔
حبیب جان پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی اسمبلی کے لیے امیدوار، پارٹی کی صوبائی کونسل کے رکن رہے ہیں۔ ان کا شمار کالعدم پیپلز امن کمیٹی کے رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ عبدالرحمان بلوچ عرف رحمان ڈکیت کی ایک مشتبہ مقابلے میں ہلاکت کے بعد حبیب جان نے کھل کر اپنا اور پارٹی کا تعلق ان سے ظاہر کیا تھا۔
سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا جب مستعفی ہونے کے بعد لندن پہنچے تھے تو حبیب جان ہی ان کے میزبان تھے، وہ برطانوی شہریت بھی رکھتے ہیں۔جان لندن پہنچ گئے
وائیس فار مسنگ پرسن کے چیئر مین کی غلط بیانی نے مسنگ پرسنز کا بھانڈا پھوڑ دیا
بیس ہزار افراد سے اب صرف ۶۰ افراد کی لسٹ سپریم کورٹ کو دی ہے
کراچی سے گرفتار افراد مسنگ پرنز کی لسٹ میں ہیں
بیس ہزار افراد سے اب صرف ۶۰ افراد کی لسٹ سپریم کورٹ کو دی ہے
کراچی سے گرفتار افراد مسنگ پرنز کی لسٹ میں ہیں
کراچی(بیورو رپورٹ صدائے غازی)وائیس فار مسنگ پرسنز کے چیئر مین کی غلط بیانی نے مسنگ پرسنز کا بھانڈا پھوڑ دیا بیس ہزار افراد کا ڈھنڈورا پیتنے والے وائیس فار مسنگ پرسنز جو کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کی طرف سے مہیا کردہ فنڈز سے پاکستانی افواج کے خلاف سرگرم عمل ہے کا کہنا ہے کہ کراچی میں بی ایل کے گرفتار افراد گمشدہ افراد کی لست میں پہلے سے موجود ہیں یہ کیسا عمل ہے کہ جو بھی دہشتگرد مقبابلے میں مارا جائے یا گرفتار کیا جائے تو وہ پہلے سے ہی گمشدہ افراد کی لسٹ میں شامل ہوتے ہیں ۔ بلوچ لبریشن آرمی کی ایک نئی حکمت عملی کے تحت یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بی ایل اے کی ٹاپ لیڈر شپ کے تما کماندرز کی لسٹ پہلے سے ہی گمشدہ افراد کی فہرست مین شامل کی جاتی ہے اور بعد مین اگر کوئی کاروائی کرتے ہوئے پکڑا بھی جائے تو عدالتوں میں اسے بیگناہ قرار دینے کے لیئے جتن کیئے جاتے ہیں ۔ وائیس فار مسنگ پرسنز کا اصلی چہرہ اب عوام کے سامنے آگیا ہے
غریب ملک کی قومی اور پنجاب اسمبلی کے اراکین کے اثاثوں کی فہرست موصول ہوگئی ہے جس کے مطابق نور عالم امیر ترین رکن قومی اسمبلی ہیں جبکہ وزیراعظم گیلانی کے اثاثوں کی مالیت دو کروڑ چھ لاکھ چوبیس ہزار روپے ہے ۔ وزیراعلیٰ پنجاب اکیس کروڑ روپے کے اثاثوں کے مالک ہیں۔
موصول فہرست کے مطابق وزیراعظم گیلانی کے ملتان میں واقع گھر کی مالیت 68 لاکھ روپے ہے جبکہ اڑتالیس لاکھ کی زرعی اراضی اور بینک میں 90 لاکھ 24 ہزار 637 روپے ہیں۔ قرضوں میں ڈوبے ملک کی قومی اسمبلی کے امیر ترین رکن نور عالم خان ہیں جن کے مجموعی طور پر3 ارب 20کروڑ کے اثاثے ہیں ۔
اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی کے پاس حیران کن طور پر صرف 3 لاکھ روپے مالیت کا گھر ہے ، 67 ایکڑ زرعی اراضی بھی ہے جس کی مالیت 2 کروڑ 5 لاکھ روپے ہے۔ اسفند یار ولی کے پاس 25 لاکھ روپے کے زیورات اور بینک میں 14 لاکھ روپے ہیں۔۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اکیس کروڑ روپے مالیت کے اثاثوں کے مالک ہیں ۔ گاڑی انہیں تحفے میں ملی ہے ۔
جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے پہاڑ پور میں واقع گھر کی مالیت 10 لاکھ روپے درج ہے ، 20 لاکھ روپے کا ایک گھر شور کوٹ میں بھی ہے ،ڈیرہ اسماعیل خان میں 5 کینال زمین اور 5لاکھ 50 ہزار کے زیورات کے علاوہ بینک میں 9 لاکھ 40 ہزار روپے موجود ہیں ۔
سابق وزیرپانی و بجلی اور موجودہ وزیر بے محکمہ راجہ پرویز اشرف کا اسلام آباد میں واقع گھر 4 کروڑ روپے مالیت کا ہے ۔ اسلام آباد میں ہی 15 کروڑ کی دکان بھی ان کی ملکیت ہے ، 70 لاکھ کاایک پلاٹ، ایک کروڑ روپے کی زرعی اراضی، 18 لاکھ کی گاڑی، 4 لاکھ روپے کے طلائی زیورات، 80لاکھ روپے بھائی نے دیے، 2 لاکھ 50 ہزار کا فرنیچر،اور 20 لاکھ روپے بینک اکاونٹ میں ہیں۔
آفتاب شیرپاو کے اثاثوں میں 85 لاکھ روپے کی مارکیٹ, ایک کروڑ 25لاکھ روپے کا فارم ہاؤٴس، 35 لاکھ کی گاڑی, بینک میں 47 لاکھ 85 ہزار روپے، اس طرح پاکستان میں اثاثوں کی مجموعی مالیت 26 کروڑ 18 لاکھ ۔ 18 کروڑ 87 لاکھ روپے کی زرعی اراضی، 5 کروڑ 15 لاکھ کی دیہی علاقوں میں جائیداد،ایک کروڑ 8 لاکھ روپے کے حصص, گوادر میں 3 لاکھ کی زرعی اراضی،استعمال میں موجود لینڈ کروزر تحفے میں دی گئی، اپنی پاس سوزکی آلٹو اور ہنڈا سوک گاڑی ہے ۔
لیاری آپریشن کی عدالتی تحقیقات کیلئے نبیل گبول کا صدرکو خط
لیاری سے پیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی نبیل گبول نے پولیس آپریشن کی عدالتی تحقیقات کیلئے صدر ا ور وزیر اعظم کو خط لکھ دیاجس میں نبیل گبول کاکہنا ہے کہ عدالتی تحقیقات میں جاں بحق ہونے والوں کا تعین کیا جائے کہ کون کس کی گولی سے مارا گیا۔ کوئی بے قصور پولیس یا شرپسندوں کی گولی سے ہلاک ہوا ہے تو مارنے والے کے خلاف کارروائی کی جائے۔
خط میں مطالبہ کیا گیا حکومت لیاری آپریشن کے دوران جاں بحق ہونے والوں بے قصور شہریوں کے لیے دس لاکھ اور زخمیوں کے لیے پانچ لاکھ روپے امداد دے۔ نبیل گبول کا کہنا تھا کہ جرائم پیشہ افراد اس خیال میں نہ رہیں کہ ان کے خلاف کارروائی نہیں کی جائے گی، آپریشن عوام کی سہولت کے لیے عارضی طور پر روکا گیا ہے۔





No comments:
Post a Comment