free glitter text and family website at FamilyLobby.com
VOTED AS NO 1 on FACEBOOK.........TWITTER.............TUMBLER

DAILY SADA-EGHAZI 09/05/2012


تما م بگٹی قبائیل براہمدغ بگٹی سے لا تعلقی کا اظہار کرچکے ہیں وڈیرہ غلام نبی شمبانی 
بلوچستان تو کجا اگر وہ یہاں آجائیں تو انہیں کونسلر کی سیٹ بھی نہیں ملے گی چیف آف شمبانی بگٹی قبائیل کی روز نامہ صدائے غازی سے خصوصی گفتگو 
ڈیرہ بگٹی(بیورو رپورٹ) تمام بگٹی قبائیل براھمدغ بگٹی سے لا تعلقی کا اظہار کرچکے ہیں موصوف میڈیا میں آکے اپنے گناہوں کو صاف نہیں کرسکتے اگر وہ یہاں آئیں گے تو وہ ہمارے تمام قبائل کے مجرم ہیں 
انہوں نے اپنے دہشتگردوں کے ذریئعے بیگناہ بگٹی قبائل کو شہید کروایا انکے ساتھ بلوچی قبائلی روایات کے تحت سلوک کیا جائے گا ۔ ان خیالات کا اظہار شمبانی بگٹی قبیلے کے چیف وڈیرہ غلام نبی شمبانی بگٹی نے روز نامہ صدائے غازی کو ایک خصوصی انٹرویو میں کیا ۔ انکا کہنا تھا کہ براھمدغ بگٹٰ نے ہر قبیلے سے کئی بگناہ افراد کو بارودی سرنگوں کے ذرئعے شہید کروایا کس طرح یہاں کے عوام انہیں خوش آمدید کہیں گے ۔انہوں نے کہا کہ اب انہیں چاہیئے کہ وہ توبہ تائب ہوکر اور اگر وہ یہاں آئے تو ہم قبائلی رواییات فیصلہ دیا وہ ہمارا فیصلہ ہوگا کیوں کے بگٹی عوام ان سے نفرت کرتے ہیں ۔ آزادی تو دور کی بات ہے وہ یہاں پہ کونسلر کا الیکشن بھی جیت نہیں سکتے ۔ انہیں اور جمیل اکبر بگٹی کو دعوت دیتے ہیں وہ یہاں پہ آئے اگر ڈیرہ بگٹی میں ریفرنڈم کے تحت وہ جیت گئے تو پھر وہ آزاد بلوچستان کی بات کریں ۔ یہ کہنا احمقوں کے جنت میں رہنے کے مترادف ہے 
جب تک کہ بلوچ عوام غیرت مند بگٹی قبیلے کا ایک بھی فرد ذندہ ہے انکے ناکام منصوبے ناکام ہی رہیں گے اور پاکستان کو کئی مائی کا لال توڑ نہیں سکتا ۔ انکا کہنا تھا کہ روزنامہ صدائے غازی کی اشاعت سے ہمارے حوصلے بہت بلند ہوئے ہیں اور اب کوئی بھی مائی کا لال یہاں پہ ہماری آواز کو بند نہیں کرسکتا اور ہم سب ایک ہیں اور ملک اور قوم کی دفع کی خاطر ہم نے جانو ں کا نظرانہ دیا ہے اور دیتے رہیں گے۔ 
انہوں نے کہا کہ میرا بھائی جو کہ بیگناہ تھا وہ بارودی سرنگ کے ذریئعے براھمدغ بگٹی نے شہید کروایا پرواہ نہیں ہم آگے بڑھیں گے ۔انہو ںے کہا کہ باہر بیٹھ کہ باتیں کرنا آسان ہے اگر وہ بلوچ قوم کے حقیقی وارث ہوتے تو وہ یہاں پہ ہوتے ۔ایک سوال پہ کہ کیا براھمدغ بھارت کچھ دنوں پہلے گئے تھے تو وڈیرہ غلام نبی بگٹی کا کہنا تھا کہ براہمدغ اور انکی پارٹی اور مسلح تنظیم بی آر اے کو بھارت ہی سپورٹ کر رہا ہے اس میں کوئی شک اور شبے والی بات نہیں لیکن یہاں کے نڈر اور دلیر قبائل نے بھارتی منصوبے کا خاک میں ملادیا ہے ہمارے لوگوں نے :اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے اور اب تک کئی سو افراد ان دہشتگردوں کے دہشتگردی کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں 


 بی ایل اے کے پانچ اور دہشتگرد کراچی میں بیٹھے ہیں غفار بگٹی کے سی آئی دی پولیس کے سامنے انکشافات
ہم نے لیاری آپریشن کے دوران ایس ایچ او کے اوپر راکیٹ باری کی دوران تفتیش انکشافات
بی ایس او آزاد کے چیئر مین بشیر زیب بھی لیاری میں موجود ہے اور وہ دہشتگردوں کو اسلحہ سپلائی کرتا ہے

جب ہم گھر سے نکلے تو ہامرے کمانڈر نے کہا کہ آپ کو کچھ نہیں ہوگا آپ کا نام گمشدہ افراد کی لسٹ میں ڈال دیا ہے اگر پکڑے بھی گئے تو رہا ہوجاؤ گے
کراچی (تحقیقاتی رپورٹ صدائے غازی ٹیم) بی ایل کے تین دہشتگردوں میں سے ایک غفار بگٹی نے دوران تفتیش بتایا ہے کہ ہمارے کمانڈر نے کہا کہ اب موقعہ ہے کراچی لیاری میں آپریشن ہو رہا ہے تم وہاں پہ پہنچو ہم تمہیں اسلحہ دیں گے اور دونوں اطراف سے لوگوں کو مارو تاکہ زیادہ سے زیادہ نقصان ہو جائے بڑوں کا حکم ہے جسکے بعد ہمیں کراچی میں ایک پولیس والے لڑکے اور ایک اعلیٰ شخصیت نے
لیاری پہنچیایا ۔ اور ہم نے پولیس کے بکتر بند گاڑی پہ فائیرنگ کی اور جسکا کہ ہم اعتراف کرتے ہیں ۔ جبکہ بی ایل اے کیے دہشتگردوں کا کہنا تھا کہ ہمیں ہمارے کمانڈر نے یہ کہا کہ آپ کا نام چونکہ گمشدہ افراد کی لسٹ میں ڈال دیا گیا ہے اگر پکڑے بھی گئے تو تم لوگوں کو کچھ بھی نہیں ہوگا اور تم لوگ چھوٹ جاؤ گے کیوں کہ عدلیہ ہمارے ساتھ ہے اور وہاں پہ ہم مظلوم ہیں ۔ پولیس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک تین سے پانچ مزید بڑے دہشتگرد کراچی میں چھپے ہوئے ہیں اور بی ایس آزاد کا چیئر مین بھی کراچی میں بیٹھ کر دہشتگردی کروارہا ہے
بانک واضل بی بی اور بانک نعیمہ کو بازیاب کروایا جائے میڈم رابعہ بلوچ
دونوں خواتین کے بازیاب نہ ہونے تک حتجاج جاری رہیگا مظاہرین نے ٹائر جلا کر بی بی نانی پل کو تریفک کے لیئے بند کردیا
بولان (نامہ نگار) بانک واضل بی بی اور بانک نعیمہ بی بی کی اغوا اور اجتمائی زیادتی کے خلاف آج بھی بولان میں کوئیٹہ بولان شاہراہ کو بلاک کرکے بلوچ تحریک برائے انسانی حقوق کی چیئر پرسن میڈم رابعہ بلوچ
نوری نصیر خان خواتین پینل کی سربراہ بانک شہناز بلوچ نے کئی بلوچ خواتین کے ہمراہ مین شاہراہ پہ دھرنا دیا اور اور مسلح تنظیم بی ایل اے بی آر کے خلاف نعرے بازی کی اور انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور صوبائی حکومت پہ بھی تنقید کی انہو نے کہا بلوچستان کے ابتر صورتحال کی ذمہ دار صوبائی وزراء اور کمنشنر صاحبان ہیں جبکہ پولیس اور لیویز بھی انکے سامنے بے بس ہے ۔ مظاہرین بی ایل اے بی آر اے کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور کہا کہ دونوں بلوچ خواتین کے ساتھ اجتمائی زیادتی کی گئی ہے اور خواتین ذکمی ہیں اور ابھی تک بی ایل اے کی کیمپ ممیں ہیں اور وہاں تک کسی کو جانے کی اجازت نہیں ہے ہم ایسے درندہ انسانوں کی مذمت کرتے ہیں جو بلوچیت کے نام پہ ہمیں اور ہماری بلوچ قوم کے ساتھ ایسا رویہ رکھ رہے ہیں بلوچ قوم میں ا نکے خلاف مزید نفرت بڑھے گی   

بی ایل کے خلاف بلوچ قوم میں نفرت کا اضافہ گرفت ڈھیلی پڑنے لگی
بلوچ قبائیلی عالقے اب بی ایل اے کی گرفت سے آزاد ہونے لگے لوگ دہشتگرد تنظیم کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں بلوچ قبائل
کوئیٹہ(اسٹاف رپورٹر) بی ایل اے کے خلاف اب بلوچ قوم کے اندر نفرت پھیلنے لگی اور لوگ اسی دہشتگرد تنظیم سمیت تمام دہشتگرودوں سے بیزار اور تنگ عجز آچکے ہیں اور اکثر و بیشتر لوگ
انہیں مفاد پرست اور قاتلوں کا ٹولہ قرار دے رہے ہیں آئے روز خواتین کے اجتمائی آبروریزیاں بھی اسی بات کا ثبوت ہیں کہ اب طاقت کے نشے میں چور بی ایل اے کے لوگ اپنے ہی بلوچ بھائیوں کو ظلم و بربریت کا نشانہ بنا رہے ہیں اور بلوچ عوام اب ایسے کارندوں سے نفرت کرتے ہیں خاص کر بولان مستونگ جیسے علاقوں میں تو انکی کمر دھیلی پڑ گئی ہے جہاں پہ چیف آف ساراوان کے بھائی نوابزادہ میر سراج رائیسانی کے بیٹے کی شہادت کے بعد مستونگ کے لوگ ایسے کارندوں سے نفرت کرتے نظر آرہے ہیں اور انہیں اب زمین جگہ نہیں دے پارہی ،جبکہ بلوچ عوام کی طرف ان تنظیموں کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ہمارے رپورٹ کے مطابق اب نہ صرف یہ تنظیمین ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں بلکہ اپنے ہی کاکنوں کو سبقت لیجانے کی کوششوں میں شہید کرکے انکی لاشیں ویرانوں پھیینک رہے ہیں اور اسکا واضع ثبوت پچھے دنوں سنگت ثناء کی لاش کا ملنا تھا سنگت ثناء کے متلعق یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ ایران مین عباس گچکی کے ہان موجود تھا اور یاں پہ انکا نام گمشدہ افراد کی لسٹ میں تھا جب وہان ایران میں لیڈر شپ اور کمانڈ پہ جھگڑا ہوا تو اسے عباس نے قتل کردیا اور اسکی لاش اسی جگہ سے ملی جہاں لالہ منیر بلوچ اور شیر محمد بلوچ اور غلام محمد بلوچ کو قتل کردیا گیا یہ کیسا عجیب اتفاق ہے کہ یہاں پہ ہونیوالی ساری کاروائیاں یا تو وندر کی ندی یا پھر مرغاپ میں ہوتی ہیں اور انکی ذمہدارایاں بھی انکے اپنے ہی لوگ لیتے ہیں اور انکا الزام ادراوں پہ لگا دیا جاتا ہے 


پنجگور میں دہشتگردوں کے ہاتھوں ایک فرد بم دھماکے میں ہلاک ایک زخمی 
دہشتگرد تنظیم لشکر بلوچستان ذمہ داری قبول کرلی 
کوئیٹہ(نامہ نگار) پنجگور میں ڈی سی آفیس کے سامنے رکھے ہوئے بم دھماکے کی ذمہ داری دہشتگرد تنظیم لشکر بلوچستان نے قبول کرلی لشکر بلوچستان کے ترجمان لونگ خان نے کہا 
کہ وہ اس دھماکے کی ذمدہ داری قبول کرتے ہیں ۔ واضع رہے کہ اس سے پہلے پنجگور میں بلوچ لبریشن فرنٹ کام کر رہی تھی اور پنجگور میں اس تنظیم کی طرف سے بم حلہ پہلا واقعہ جبکہ 
اس دھماکے کے نتیجے میں ایک کقامی بلوچ شہید جبکہ دوسرا ذخمی ہوا پنجگور میں دھماکے کے خلاف کل ہڑتال کی اپیل کی گئی ہے ۔ مقامی فراد نے دھماکے کے بعد دوکانیں بند کرادیں اور بی ایل اے اور دہشتگردوں کے خلاف سخت نعریے بازی کی ۔ عوامی ھلقوں نے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ۔جبکہ پریس کلب کوئیٹہ مین نامعلوم مقام سے سیٹلائیٹ فون پہ بات کرتے ہوئے لشکر بلوچستان کے ترجمان نے اس بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ۔ واضع رہے کہ دہشتگرد تنظیم لشکر بلوچستان سردار عطاءﷲ مینگل نے اپنے بیٹوں کے ذرئعے بنائی ہے تاکہ ھکومت کو بلیک میل کیا جاسکے اور دسری جانب جو بھی بلوچ رہنماء یا کوئی افسر پیسے نہیں دیتا تو یہ تنطیم اسے ٹارگٹ کردیتی ہے اور اس تنظیم نے لاہور میں بھی بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی تھی ۔ چونکہ خضدار میں اس تنظیم کو شدید مزاحمت کا سامنا ہے اسلیئے اب یہ تنظیم پنجگور میں دیرے ڈال کے غریب اور لاچار لگوں کو ٹارگت کر رہی ہے 


پاکستانی فوج کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل خالد ربانی نے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ افغانستان میں اپنی ناکامیوں پر پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانا چاہتا ہے۔پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں لیفٹیننٹ جنرل خالد ربانی نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹیڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی جانب سے افغانستان میں شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کرنے کی صورت میں پاکستان سے اس کی سرزمین پر تمام شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کرنے کی توقع نہ رکھی جائے۔

CORPS COMMANDER PESHAWAR GEN RABANI TALKING TO MEDIA
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں لیفٹیننٹ جنرل خالد ربانی نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹیڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی جانب سے افغانستان میں شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کرنے کی صورت میں پاکستان سے اس کی سرزمین پر تمام شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کرنے کی توقع نہ رکھی جائے۔لیفٹیننٹ جنرل خالد ربانی کا کہنا کیا افغانستان میں طالبان کا خاتمہ 
 ہوگیا ہے؟ وہاں لاکھوں طالبان ہیں

امریکی سی آئی اے کی جانب سے بی ایس او کے پانچ سو میمبرز کو امریکی ویزے جاری کرنیکا انکشاف 
یہ نوجوان امریکہ مین پڑھنے کی غرز کے بہانے وہاں پہنچے ہیں ٹریننگ مراعات اور دیگر کام ہورہا ہے روزنامہ صدائے غازی کی تحقیقاتی رپورٹ 
شمالی امریکہ (بیورو چیف)امریکی سی آئی اے کی پالیسی پاکستان توڑنے کی سازشیں ایک اور بڑی سازش کا انکشاف بلوچستان کے مختلف شہروں اور گاؤن کوچوں کے پانچ سو نوجوانوں کو پڑھنے 
اور ٹریننگ کی غرز ظاہر کرکے امریکہ بھیجا گیا ہے یہ نوجوان دو سال قبل شمالی امریکی تنظیم بلوچ سوسائیتی برائے شمالی امریکہ ڈاکٹر واحد بلوچ کی طرف سے بلائے گئے ہین جہان انہین پانچھ ہزار ڈالرز فی کس ماہانہ تنکواہ اور بلیک واٹر کی طرف سے تربیت دی جارہی ہے ۔ ہمارے نمائیندے کے مطابق یہ لڑکے وہاں ہپہ چار سال تک قیام کرنیکے بعد واپس یہان آئیں گے اور دہشتگردی میں مدد گار ثابت ہوں گے 
ہماری ٹیم نے یہ بھی بتایا کہ تنطیم برائے شمالی امریکہ کے صدر ڈاکٹر واحد بلوچ جنہیں اسرائیل اور امریکہ کی دوہری شہریت حاصل ہے ان لڑکوں کو یروشلم لے جاکر وہاں پہ پہلے سے قائم شدہ متوازی ھکومت آزاد بلوچستان کے نئے سہانے کواب اور عیش عشرت پیش کی جائیگی اور وہاں پہ انکی یہودی کوبرو حسیانؤں سے اجمتمائی شادیاں بھی کروائی جائین گیں اسکے بعد ان سے یہ عہد لیا اجئے گا کہ وہ ممکنہ آزاد بلوچستان کی ریاست میں یہودیت کی پرچار کے لیئے سرگرمیان ظاہر کریں گے ۔ اس مقصد کے لیئے خان آف قلات حیر بیار کی تین ملاقاتیں لندن مین مقیم اسرائیلی سفیر سے کروائی جاچکی ہین حیر بیار نے اسرائیل کے تین دورے کیئے ہیں ہماری اطلاع کے مطابق ھیر بیار کی ایک یہودی بیوی بھی ہے جس سے ایک بچہ بھی ہے جو کہ یروشلم میں زیر تعلیم ہے 




یہودو نصارا کی سازشیں بی ایل اے مین اکثر کام کرنے والے لڑکے مرتد ہونے لگے 


اپنے اسلامی نام مٹاکے ہندوؤں اور یہودیوں کے نام اپنا لیئے 
مکران میں مصنوعی کعبۃﷲ کا انکشاف کلمہ طیبہ بھی بدلا گیا ریسرچ رپورٹ 


کراچی(بیورو چیف) یہودو نصرا ایک طرف تو ہمارے دوست بن کے ہمارے اتحادی بنے ہوئے ہین تو دوسری جانب ہمارے اقدار اور عقیدوں پر کاری ضرب لگاکر نئی نسل کو کفر کی جانب پھیر رہے ہین 
ہمارے روزنامہ صدائے غازی کی ٹیم کو بہت بڑی معلومات ملی ہیں جن مین مسلح تنظیموں کی تربیتی کیمپوں مین کام کرنے والے اکچر لڑکون کی اسطرح ذہن سازی کی گئی ہے کہ انہون نے اپنے اسلامی نام تبدیل کرکے ہندووں اور عسائیوں کے نام رکھ لیئے ہیں ۔ لڑکوں نے کلمہ طیبہ بھی بدل لیا اور مکران کے کوہ مراد میں ایک اقلیتی فرقے جسے یہودی گروپس مالی مدد کر رہی ہین اور وہاں پہ ایک مسلح تنظیم کو بھی یہی لوگ چلا رہے ہین مصنوعی کعبہتیار کیا گیا ہے جہان پہ ہر سال حج ہوتا ہے اور نعوذ با اﷲ ظواف بھی کیا جاتا ہے۔ اسطرح مرتد ہونیوالے طلابء دین اسلام سے دور اکلاقیات سے دور چلے گئے ہیں اور انہیں وہاں پہ اسی اقلیتی گروپ کی لڑکیون سے شادیان کروائی جاتی ہین ۔ جو زگری مذہب اختیار کرلیتا ہے اسے اسرائیل بھیجا جاتا ہے اور باقی ماندہ کرچ اسی اقلیتی گروپ کے لوگ کرتے ہین ۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بلوچ لبریشن فرنٹ کے اکثر جنگجو زگری مذہب اختیار کرچکے ہین اور ان میں سے بعض بھارت اور بعض کو امریکہ پھر وہاں سے ارائیل بھیجا جا رہا 

ایس ایس پی شاہنواز خان کی شہادت المیہ ہے نوبزادہ سراج رئیسانی 
وہ یاک سچے ملنسار اور محمنتی افسر تھے انکا خلا پر نہیں ہوسکتا 
مجرموں کو فوری گرفتار کرنیکا وزیر اعلیٰ کا حکم 
کوئیٹہ(صدائے غازی اسٹاف رپورٹر) ایس ایس پی شاہنواز خان کی شہادت کسی المیہ سے کم نہیں ہمیں مل کر مجرموں کو پکڑنا ہوگا ان خیالات کا اظہار نوجوان رہنماء اور چیف آف ساراوان کے بھائی نوبزادہ سراج رئیسانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا نوبزادہ سراج رئیسانی نے کہا کہ ایس ایس پی شہادت سے امن کی کوششوں کو سبوتاز کرنیوالے ملک و قوم دشمن ہیں ۔ دریں اثناء وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نے کہا کہ ایس ایس پی سی آئی اے کے قاتلوں کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے 


سپریم کورٹ کی طرف سے بے جا مداخلت نے بلوچستان کا امن مزید تباہ کردیا 
عوام کدھر جائیں مجرموں کو پکڑتے ہیں تو عدالتوں میں جج ہٹھکڑیان لگاتے ہیں 
اگر چھوڑ دیتے ہین تو سرعام آکر پولیس افسران کو مارتے ہیں 
ایس ایس پی شہادت کے موقع پر رقعت آمیز مناظر پولیس والے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے
کوئیٹہ(بیورو چیف) سپریم کورٹ کی طرف سے چند دن ہوئے کہ پولیس افسران آئی جی سمیت سب افسران کو عدالت مین بلاکے بی عزت کیا گیا جبکہ جو چھوٹ گئے انکے عزیز و اقارب نے بدلے کی آگ
بجھانے کی خاطر اب پولیس افسران کو شہید کرنا شرع کیا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار ایک پولیس افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنیکی شرط پر روز نامہ صدائے گازی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا انہون نے کہا 
اب ہم کہان جائیں مجرم پکڑتے ہین تو عدالتوں میں بے عزت ہوتے ہیں اگرچھوڑ دیتے ہیں تو ہمارے افسرون کو شہید کیا جاتا ہے ایف سی والوں کو شہید کیا جاتا ہے عام لوگون کو ٹارگٹ کیا جاتا ۔ پولیس کے رد عمل کو دیکھتے ہوئے یہ مْھسوس ہو رہا تھا کہ پولیس کے اندر کافی جذبہ پایا جاتا ہے ۔ ایک سپاہی نے کہا کہ اب سپریم کورت کسے گرفتاری کا ھکم دے گی ہماری بات پہ کوئی یقین نہین کرتا وہ ہمیں انسان نہیں سمجھتے بلکہ بی ایل اے والوں کو اور لشکر بلوچستان والون کو بہتر انسان سمجھتے ہیں ۔

BEAUTIFUL BALUCHISTAN SCENERY OF BOLAN 







تفصیلی فیصلے کے بعد: سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ دونوں کا امتحان

توہین عدالت کیس میں سپریم کورٹ کا بارہ روز بعد تفصیلی فیصلہ آ گیا۔آگے کیا ہو گا؟ اس صورتحال نے سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ دونوں کو ہی امتحان میں ڈال دیا۔ ادھر،حکمراں جماعت پیپلزپارٹی اور اپوزیشن ن لیگ نے پنجاب میں دما دم مست قلندر کی تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔

فیصلہ منگل کو وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے دورہ برطانیہ پر روانگی کے چند گھنٹوں بعد آیا ۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وزیراعظم کا اگلا قدم اس فیصلے کے خلاف عدالت عظمیٰ میں اپیل کرنا ہو گا اور اس کا ان کے وکیل اعتزاز احسن اوروزیراعظم خود بار بار اظہاربھی کر چکے ہیں، لیکن وزیراعظم کے اس اقدام کا سامنا سپریم کورٹ کیلئے بھی ایک امتحان بن گیا ہے۔

سپریم کورٹ کو مشکلات
سپریم کورٹ میں ججز کی مجموعی تعداد سولہ ہے۔سات رکنی بینچ نے وزیراعظم کے خلا ف توہین عدالت کیس کی سماعت کی لہذا وہ وزیراعظم کی اپیل کی سماعت نہیں کر سکتے۔ جس کا مطلب ہے کہ اس کے بعد نو ججز اپیل کی سماعت کیلئے باقی بچے تھے۔لیکن جسٹس تصدق جیلانی اور جسٹس شاکر اللہ جان سمیت تین ججوں نے اپیل کی سماعت سے معذرت کر لی جس کے بعد سماعت کیلئے صرف چھ ججز دستیاب ہیں۔

گزشتہ دنوں بلوچستان میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر وزیراعظم اپیل کرتے ہیں تو اس کیلئے نو ججزدرکار ہوں گے ، ہمارے پاس چھ جج ہیں لہذا اس کمی کو پورا کرنے کیلئے دو ایڈہاک اور ایک ایڈیشنل جج لایا جائے گا۔ لیکن اس معاملے پر وکلاء اور حکومت کی جانب سے سخت رد عمل سامنے آیا اور یہی وجہ ہے کہ پیر کو اس حوالے سے ہونے والا جوڈیشل کمیشن کا اجلاس بغیر نتیجے پر پہنچے ہی ختم ہو گیا۔

پارلیمنٹ کے مسائل
بہرحال اگر یہ معاملہ حل ہو جاتا ہے ، سپریم کورٹ وزیراعظم کی اپیل مسترد کر دیتی ہے تو پھر اسپیکر قومی اسمبلی کے پاس ریفرنس جائے گا اور وہ فیصلہ کریں گی کہ اسے الیکشن کمشنر کے پاس بھیجا جائے یا نہیں۔اگر وہ الیکشن کمشنر کے پاس ریفرنس بھیج بھی دیتی ہیں توملک میں جسٹس شاکر اللہ جان کی صورت میں قائم مقام الیکشن کمشنر ہیں اور ان کا کوئی بھی فیصلہ متنازع بن سکتا ہے۔ دوسری جانب نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار کے رویے کے باعث کھٹائی میں پڑی ہے۔

آئین کے مطابق الیکشن کمشنر کی تعیناتی کیلئے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی مشاورت لازمی ہے۔ لیکن اپوزیشن لیڈر کا موقف ہے کہ وزیر اعظم نا اہل ہو چکے ہیں لہذا ان سے کوئی مشاورت ہی نہیں ہو سکتی۔ اس کے علاوہ حکومت اور اپوزیشن کی کشیدگی کے باعث بیسویں ترمیم پر عملدرآمد بھی سوالیہ نشان بن چکا ہے، کیونکہ اس کے مطابق نگراں حکومت کے قیام میں بھی وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر میں مشاورت ضروری ہے۔

پنجاب میں دما دم مست
پاکستان میں مجموعی آبادی کا ساٹھ فیصد حصہ رکھنے والا صوبہ پنجاب اس وقت سب کی توجہ کا مرکز ہے جہاں مسلم لیگ ن کی حکومت ہے اور یہاں سے پیپلز پارٹی کے خلاف سب سے زیادہ آواز بلند ہورہی ہے۔ مسلم لیگ ن نے تو پہلے ہی پنجاب کے مختلف شہروں میں وزیراعظم کے خلاف احتجاج کے شیڈول کا اعلان کر رکھا تھااس کے جواب میں پیپلزپارٹی بھی منگل کو میدان میں آ گئی اوروزیراعظم سے اظہار یکجہتی کیلئے صوبہ میں ریلیوں اور جلسوں کا اعلان کردیا۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر امتیاز صفدر وڑائچ نے اعلان کیا کہ دس مئی کو پیپلز لائرز فورم کے زیر اہتمام لاہور میں سیمینار ہوگا۔ بارہ مئی کولاہور میں ریلی نکالی جائے گی۔ چودہ مئی کو اوکاڑہ میں جلسہ ہوگا۔ سولہ مئی کو راولپنڈی میں جلسہ کیا جائے گا۔ اٹھارہ مئی کو فیصل آباد میں پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن کا کنونشن ہوگا۔ انیس مئی کو لاہور سے قصور تک ریلی نکالی جائے گی۔ اکیس مئی کو لاہور سے ننکانہ ریلی اور جلسہ منعقد کیا جائے گا۔ بائیس مئی کو ساہیوال میں جلسہ کیا جائے گا۔ تئیس مئی کو لاہور سے گوجرانوالہ تک ریلی نکالی جائے گی۔ مئی کے آخری ہفتے میں سرگودھا، خوشاب، سیالکوٹ اور منڈی بہا وٴ الدین میں ریلیاں اور جلسے ہوں گے۔

ادھر وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے لندن پہنچنے سے قبل طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں کوئی ڈرا دھمکا کر استعفیٰ نہیں لے سکتا۔ ن لیگ خاص وجہ سے الیکشن کمشنر کا تقرر نہیں چاہتی۔ انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ سرائیکی صوبے کی آواز دبانے کی کوشش کی گئی تو ملک بھر میں احتجاج شروع ہو جائے گا۔

ن لیگ کا نہلے پہ دہلا
دوسری جانب ن لیگ نے نہلے پر دہلا پھینکتے ہوئے پنجاب کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں پیش کر دی۔ صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے پنجاب میں جنوبی پنجاب اور بہاولپور صوبے بنانے کی قرارداد یں جمع کرا دی ہیں۔

مبصرین موجودہ صورتحال میں ملکی سیاسی صورتحال سے متعلق کوئی بھی پیش گوئی کرنے سے گریزاں ہیں تاہم اس تمام تر صورتحال کو جمہوریت کیلئے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔





























No comments:

Post a Comment