![]() |
امن اور محبّت کا نشان ہمارا پاکستان |
تازہ ترین
لیاری آپریشن سیاسی جماعتوں کا ملا جلا ردِ عمل
کراچی کےعلاقےلیاری میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف جاری آپریشن کےبارے میں حکومت میں شامل دیگر جماعتوں نے ملے جلے ردِ عمل کا اظہار کیا ہے جبکہ سندھ کی قوم پرست جماعتوں نے اس کی شدید مخالفت کی ہے۔
حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی اتحادی جماعت عوامی نیشنل پارٹی نے لیاری میں جاری آپریشن کی مخالفت کی ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر شاہی سید نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گو وہ آپریشن کا مطالبہ کرتے رہے ہیں مگر یہ ایک فرمائشی آپریشن ہورہا ہے جو کسی مسئلے کا حل نہیں۔ پورے کراچی میں تمام جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن ہونا چاہیے جو کسی قوم یا مسلک کے خلاف نہ ہو تا کہ تمام لوگ اس کا ساتھ دیں۔
انہوں نے کہا کہ کراچی سب کا شہر ہے اور سیاست کرنا سب کا حق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے پیپلزپارٹی کو لیاری آپریشن کے بارے میں اپنے تحفظات سے آگاہ کر دیا ہے کہ اس سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور پیپلزپارٹی اپنی سیٹ خراب کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلے پیپلزپارٹی امن کمیٹی کو اپنی ذیلی تنظیم قرار دیتی تھی اس لیے وہ سیاسی بنیادوں پر اس کے ساتھ اتحاد چاہتے تھے مگر وہ کسی گینگ وار میں ملوث نہیں ہونا چاہتے۔
دوسری جانب جیے سندھ قومی محاذ کے سیکریٹری جنرل آصف بھالادی نے کہا ہے کہ وہ انسانی بنیادوں پر اس آپریشن کو روک دینے کے حق میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کراچی کو اسلحے سے پاک کرنے کے حق میں ہیں مگر وہ آپریشن یکساں طور پر سب کے خلاف ہونا چاہیے جب کہ یہ آپریشن اتحادیوں کی فرمائش پر ہورہا ہے جسے سنبھالا نہیں پا رہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ لیاری میں خواتین اور بچے خوراک اور دوا کے بغیر بیٹھے ہیں اور ان کے گھر کی بجلی، گیس اور پانی بند ہے اور ان کے بھائی مر رہے ہیں اس لیے وہ اس کی مذمت کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ وہ سنیچر کو دیگر قوم پرست جماعتوں کے ساتھ مل کر لیاری آپریشن کے خلاف احتجاج کریں گے۔
"جیے سندھ قومی محاذ کے سیکریٹری جنرل آصف بھالادی نے کہا ہے کہ وہ انسانی بنیادوں پر اس آپریشن کو روک دینے کے حق میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کراچی کو اسلحے سے پاک کرنے کے حق میں ہیں مگر وہ آپریشن یکساں طور پر سب کے خلاف ہونا چاہیے جب کہ یہ آپریشن اتحادیوں کی فرمائش پر ہورہا ہے جسے سنبھالا نہیں جاسک رہا۔"
انہوں نے کہا کہ یہ دیکھنا چاہیے کہ لیاری میں اتنا اسلحہ کیسے پہنچا اور اس کی ذمہ داری کس پرعائد ہوتی ہے۔
دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ جو پیپلزپارٹی امن کمیٹی کے خلاف کارروائی کرنے کا طویل عرصے سے مطالبہ کرتی آئی ہے اور اسی کے مطالبے پر پیپلز امن کمیٹی کو کالعدم قرار دیا گیا تھا،اس نے لیاری میں جاری حالیہ آپریشن پر کسی بھی قسم کا تبصرہ کرنےسے انکار کیا ہے۔
..............................................................................................................................................................
تحریک نفاذ امن بلوچستان
مراد مری اور دلمراد دونوں بی ایل اے کے دہشتگرد اور بیگناہوں کے قاتل تھے جنکی قتل کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں
تحریک نفاذ امن بلوچستان
جب ظلم بڑھ جاتا ہے تو مظلوم کھڑے ہوجاتے ہیں غازی خان بلوچ
مزید کاروائیاں جاری رکھیں گے جسطرح بی ایل اے لوگوں کو مار رہی ہے یہ اسکا رد عمل ہے
کوئیٹہ(پ۔ر) مراد مری اور دلمراد مری بی ایل اے کے کمانڈر اور بیگناہ بلوچ عوام کے قتل میں ملوث پائے گئے تھے اور یہ دھماکوں اور قتل غارت گری کے علاوہ لڑکوں کو بھرتی کرکے انہیں مسلح کرتے تھے انکا انجام بھی وہی ہوا جو پچھلوں کا تھا ہم وارننگ دیتے ہیں کہ اگر بی ایل اے کے لوگ باز نہ آئے تو ایک ایک کرکے انہین ماریں گے کیوں کہ یہ ظالم جابر ہیں یہ بلوچ قوم کے دشمن ہیں یہ حدیں پار کرچکے تھے اسلیئے انہیں سبق سکھانا ضروری ہے ۔ ان خیالات کا اظہار تحریک نفاذ امن بلوچستان کے ترجمان غازی خان بلوچ نے این این آئی سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہا ۔ انہوں نے کہا کہ دلمراد ہمارے قبضے میں تھا اور مراد مری بھی انہوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کرلیا تھا اور دوران پوچھ گاچھ انہوں نے بتایا کہ وہ بم دھماکے اور لوگوں کو مارتے تھے ان لوگوں کو جنکا کوئی قصور نہیں تھا ۔ غازی خان بلوچ نے کہا
کہ اب مزید کاروائیاں کریں گے اور بلوچ وطن کے دشمنوں بی ایل اے بی ایل ایف بی آر اے لشکر بلوچستان کو نشانہ بنائیں گے کیوں کہ وہ امن کے دشمن ہیں اور بلوچ قوم کے غدار ہیں انکا سزا موت ہے جو کہ انکا آخری انجام ہے ۔ غازی خان بلوچ نے کہا کہ وہ اب میدان میں نلکے ہیں کسی کو معاف نہیں کریں گے جو بھی ملوث پایا گیا وہ مارا جائے گا ۔ انہون نے کہا کہ آج بھی بی اے کے تین کارندے پکڑے ہیں جنہین آئیندہ چند دنوں میں قتل کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اب پورے بلوچستان میں ہمارے غازی کاروائیاں کریں گے اسلیئے
سبکو اپنی فکر کرنی چاہیئے سب کی باری آنیوالی ہے کیوں کہ امن کے لیئے یہ ضروری ہے غازی کان بلوچ نے کہا کہ کچھ لوگ اپنے آپ کو چھپاتے ہیں لیکن سبکی تفصیل ہمارے پاس ہے اور وقت آنے پر اپنے باری کا انتظار کریں انہوں نے کہا کہ ایک طرف ظلام ہورہا ہے بیگناہ مارے جارہے ہیں دوسری جانب ان بی ایل اے کے افراد کو کھلی چھوٹ دی جارہی ہے جب یہ لوگوں کو مارتے ہیں بم دھماکے کرتے ہیں اور قبول کرتے ہیں تو کیا یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کیا ایک بی ایل اے والے کی جان کسی بیگناہ بلوچ یا کسی پولیس والے یا پھر کسی
فورس والے سے زیادہ ہے اگر نہیں تو پھر سب برابر ہیں
پاکستان کی قومی اسمبلی نے انسانی حقوق سے متعلق ایک قومی کمیشن کی منظوری دے دی ہے جس کے پاس انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کا اختیار ہوگا۔
پاکستان, اسلام آباد
یاد رہے کہ یہ بل قومی اسمبلی میں پہلے ہی منظور ہوچکا تھا جسے بعد میں سینیٹ یعنی ایوان بالا میں بجھوایا گیا جہاں سے کچھ ترامیم کے بعد قومی کمیشن کا بل منظور کرلیا گیا تاہم ان ترامیم کی منظوری کے لیے بل کو جمعہ کے روز قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا۔
انسانی حقوق سے متعلق وزیر اعظم کے مشیر مصطفی نواز کھوکھر نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس قومی کمیشن کا آرٹیکل چودہ اور پندرہ مسلح افواج اور خفیہ اداروں سے متعلق ہے کہ اگر اُن کی طرف سے ملک کے کسی حصے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو تو ان اداروں کے متعلقہ افراد کمیشن کو جواب دہ ہوں گے۔
اُنہوں نے کہا کہ فوج یا خفیہ اداروں کے اہلکار اگر کسی بھی ایسی کارروائی میں ملوث پائے گئے جس میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا عنصر شامل ہو تو اُن کے خلاف کارروائی کا اختیار بھی کمیشن کے پاس ہے۔
واضح رہے کہ ملک کے مختلف علاقوں سے لاپتہ ہونے والے افراد کے اکثر واقعات میں ملوث ہونے کا الزام فوج اور سویلین خفیہ اداروں کے اہلکاروں پر عائد کیا جاتا ہے۔ لاپتہ ہونے والے افراد کی بازیابی کے لیے وزارتِ داخلہ میں بھی ایک کمیشن بنایا گیا ہے تاہم اُن کی سفارشات پر ابھی تک خفیہ ایجنسی کے کسی بھی اہلکار کے خلاف کارروائی نہیں ہوئی۔
لاپتہ ہونے والے افراد کے ورثاء کی اکثریت اس کمیشن کی کارروائی پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہیں اور اُن کا کہنا ہے کہ اس کمیشن کی کارروائی کو حکومتی ادارے سنجیدگی سے نہیں لیتے۔
مصطفیٰ نواز کھوکھر کا کہنا تھا کہ اس کمیشن کے سربراہ سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج ہوں گے یا ایسا شخص ہو گا جو سپریم کورٹ کا جج بننے کی اہلیت رکھتا ہو جبکہ کمیشن کے ارکان میں چاروں صوبوں سے ایک ایک نمائندہ ہونے کے علاوہ وفاقی دارالحکومت سے بھی ایک نمائندے کا انتخاب ہوگا۔
"واضح رہے کہ ملک کے مختلف علاقوں سے لاپتہ ہونے والے افراد کے اکثر واقعات میں ملوث ہونے کا الزام فوج اور سویلین خفیہ اداروں کے اہلکاروں پر عائد کیا جاتا ہے۔ لاپتہ ہونے والے افراد کی بازیابی کے لیے وزارتِ داخلہ میں بھی ایک کمیشن بنایا گیا ہے تاہم اُن کی سفارشات پر ابھی تک خفیہ ایجنسی کے کسی بھی اہلکار کے خلاف کارروائی نہیں ہوئی۔"
اُنہوں نے کہا کہ ان نمائندوں کا انتخاب حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے نمائندوں پر مشتمل ایک پارلیمانی کمیٹی کرے گی اور اس پارلیمانی کمیٹی کا اعلان سپیکر قومی اسمبلی کریں گے ۔
مصطفیٰ نواز کھوکھر کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر کمیشن کو کسی بھی درخواست یا از خود نوٹس لینے کا اختیار ہوگا اس کے علاوہ کمیشن وفاقی یا صوبائی حکومت کے تحت کسی بھی ادارے سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے متعلق تفصیلات طلب کرسکتا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ گُزشتہ بیس سال سے انسانی حقوق سے متعلق قومی کمیشن کے قیام کا معاملہ التوا میں تھا۔
سپریم کورٹ کے حکم پر لاپتہ فرد کے اہل خانہ کی درخواست پر فرنیٹر کور کے دو میجروں کے خلاف خضدار میں مقدمہ درج کر لیاگیا۔
سپریم کورٹ کے حکم پر وڈھ سے لاپتہ علی حسن مینگل کے اہل خانہ کی درخواست پرخضدار پولیس فرنیٹر کور کے میجرمحمد طاہر اور میجر نوید کیخلاف آج شام مقدمہ درج کرلیاگیا۔
اسی بارے میں
سپریم کورٹ نے انسپیکٹر جنرل فرنٹئیر کور عبید اللہ خان اور انسپیکٹر جنرل بلوچستان راؤ محمد ہاشم ، صوبائی سیکرٹری داخلہ نصیب اللہ اور ایڈوکیٹ جنرل بلوچستان امان اللہ کنرانی سمیت تمام متعلقہ اداروں کو دو ہفتے تک عدالت عظمٰی کے احکامات پر عملدرامد سے متلعق رپورٹ جمع کرانے کی ہداہت کی ہے۔







No comments:
Post a Comment