free glitter text and family website at FamilyLobby.com
VOTED AS NO 1 on FACEBOOK.........TWITTER.............TUMBLER

REPORTS



Updated on 19.5.2012 by DAILY SADA-E-GHAZI TEAM 

فیس بک کے حصص کی قدر میں تیزی سے اضافہ

امریکی شہر نیویارک کے بازارِ حصص میں سماجی روابط کی مقبول ترین ویب سائٹ فیس بک کے حصص کی خرید و فروخت کا آغاز ہو گیا ہے۔
کاروبار کے آغاز کے ساتھ ہی فیس بک کے جس شیئر کی ابتدائی قیمت اڑتیس ڈالر رکھی گئی، تینتالیس ڈالر تک پہنچ گئی۔
اس سے قبل فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے نیسڈیک میں جمعہ کے دن کا کاروبار شروع ہونے کا باقاعدہ اعلان کیا۔
کیلیفورنیا میں فیس بک کے ہیڈکوارٹر میں موجود زکربرگ نے ویڈیو لنک کے ذریعے نیویارک سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغاز کی روایتی تقریب میں شرکت کی۔
نیویارک کے بازارِ حصص میں فروخت کے لیے پیش کیے جانے والے فیس بک کے ہر شیئر کی قیمت اڑتیس ڈالر طے کی گئی ہے اور اس لحاظ سے اس آٹھ سال پرانی کمپنی کی قدر ایک سو چار ارب ڈالر ہوگی۔
ابتدائی طور پر فیس بک کے چار سو اکیس ملین حصص کا تقریباً پانچواں حصہ فروخت کے لیے پیش کیا گیا ہے اور اس فروخت سے کمپنی کو سولہ ارب ڈالر حاصل ہوں گے۔
فیس بک کہہ چکی ہے کہ بازار میں موجود طلب کو دیکھتے ہوئے وہ پہلے سے طے شدہ حصص سے پچیس فیصد سے زیادہ حصص فروخت کرے گی۔
تاہم یہ حصص حاصل کرنے والے افراد کمپنی کے چلانے میں زیادہ کردار ادا نہیں کر سکیں گے۔ اس کی وجہ فیس بک کی جانب سے فروخت کے لیے پیش کیے جانے والے حصص کو دو اقسام میں بانٹنا ہے۔
ایک قسم کے حصص کواے شیئر کا نام دیا گیا ہے جس کا ایک ووٹ ہو گا جبکہ کمپنی کے موجود مالک کے حصص کو بی شئیر کا نام دیا گیا ہے جس کے مطابق ہر شیئر کے دس ووٹ ہوں گے۔
پبلک لسٹنگ کے بعد بی شیئرز کمپنی کے چھیانوے فیصد سے زائد حصے پر کنٹرول حاصل کر لیں گے جس میں فیس بک کے بانی مارک زکربرگ کا حصہ چھپن فیصد کے قریب ہوگا۔
کمپنی کی جانب سے دی گئی معلومات کے مطابق فیس بک کے بانی مارک زکربرگ کمپنی کے پچیس فیصد حصے کے مالک ہیں۔
آٹھ سال پہلے شروع ہونے والی ویب سائٹ فیس بک کے اس وقت نوے کروڑ صارف ہیں اور گزشتہ سال اس کا منافع ایک ارب ڈالر تھا۔






وائیس فار مسنگ پرسنز سوسائیٹی کے چیئر مین نصراﷲ بلوچ بھارت کا چار مرتبہ خفیہ دورہ کرچکے ہیں ۔

بھارت مین انہیں سرکاری پروٹوکول دیا گیا ماہانہ تنخواہ بھی مقرر
کراچی(مانیترنگ ڈیسک)وائیس فار مسنگ پرسنز سوسائیٹی کے چیئرمین نصراﷲبلوچ کا چارتبہ بھارت کا دورہ اس دورے میں مصوف نے سرکاری پروٹوکول حاصل کیا
ذرائع کے مطابق نصراﷲ بلوچ کو پاکستان مکالف پروپییگیندے کے لیئے ماہانہ تین ہزار ڈالرز دیئے جا رہے ہیں اور انکی مقبولیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اسے تین مرتبہ بھارتی وزیر اعاطم سے ملاقات کروائی گئی اور انتہا پسند ہندو جماعتون سے بھی ملاقاتیں را کے ایک افسر کے زرئعے کروائی گئین ہیں ،ہمارے اطلاع کے مطابق موصوف کے بیانات بھارت سے را کے آفیسرز لکھ کھر دیتے ہین اور یہ بیانات پڑھ کر سنائے جاتے ہین نصراﷲ بلوچ جو کہ وائیس فار مسنگ پرسنز کے چیئر مین ہین انکی سرزنش اسوقت کی گئی جب انہوں نے اپنا بیان دیا تھا کہ لاپتہ افراد کی تعداد ۶۵ افراد پر مشتمل ہے اور لسٹ سپریم کورٹ مین پیش کی گئی جبکہ وہ ہمیشہ بھارتی ایمء پر بیس ہزار لاپتہ افراد کا زکر کرتے ہوئے تھکتے بھی نہین تھے لیکن انکے اس بیان کے آنے کے بعد میڈیا مین انکی بڑی بیعزتی ہوئی تھی اور بھارت سے انکی تنخواہ مین کٹوتی بھی کی گئی ۔ زرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ نصراﷲ بلوچ کو کہا گیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ مین نہ جائیں اس دوران لاپتہ افراد جنکی اکثیریت بی ایل اے کے کیمپوں مین ہے اور کچھ افراد انکی قید مین بند ہیں انکی لاشیں بھارتی ایجنٹوں نے پھینک دین تھین جنکے بعد کافی شور مچا تھا ، اب چونکہ آئی جی ایف سی نے بیان دیا ہے کہ کہ سی سی ٹی وی جعلی ہے کیون کہ مشکے میں بی ایل ایف نے ایف سی کی وردیوں مین پولیس اور لیویز تھانے کو لوتا تھا اور سارے اسلحے لے کر گئے تھے یہ بھی وہی کارنامہ ہوسکتا ہے 







بلوچستان کے کئی وزراء اور ایم پی ایز کے دہشتگد تنطیمون سے رابطوں کا انکشاف 

ڈیرہ بگٹی کے ایم پیاے آئیندہ الیکشنز مین براہمدگ بگٹی کے ھمایت یافتہ ہونیکا عندیہ 

طارق مسوری بگتی کی طرف سے براہمدغ بگٹی کے لوگون کو اسلحہ ی فراہمی سرکاری گاریون کی جاتی ہے عوامی ھلقون کی جانب سے انکشاف

ڈیرہ بگٹی(نامہ نگار) بلوچستان کے آدھے وزراء اور ایم پی ایز کی جانب سے کلعدم تنطیمون سے ساتھ اندرونی روانط کی وجہ ے بی ایل اے بی آر اے اور بی ایل ایف لشکر بلوچستان جیسی تنطمیں 

آزادانہ نقل ھمل اور بیگنہا افرا کی تارگٹ کلنگ مین ملوچ ہین اس سلسلے میں ہمارے نامہ نگار کے مطابق ڈیرہ بگٹی کے ایم پی کی گاڑی مین اسلحہ لشکر بلوچستان کو مہیا کیا جاتا ہے اور براھمدغ بگٹی کے آزاد بلوچستان کے منسوبے کا عملی کردار بھی میر قارق مسوری ادا کر رہے ہیں ۔ واضع رہے کہ قارق مسوری مشرف کے مسلم لیگ ق کے رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے تھے ۔ زرائع کا کہنا ہے کہ قارق مسوری بگٹی کھلے عام بی آر اے کو مکمل سپورٹ کر رہے ہین کیوں کہ اسلحے کی فراہمی کسی بڑے آدمی کی مرجی اور مدد کے بغیر ان مسلح تنظیموں کو نا ممکن ہے ۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ قارق مسوری کے آئیندہ الیکش میں ایم پی اے منتکب ہونے سے براھمدغ بگٹی کا کام آسان ہوجائیگا اور یہ لوگ آسانی سے ھکومت مخالف سرگرمیون پہ کام کرسکین گے ۔ زرائع کا یہ بھی کہنا ہے ہے کہ آئیندہ کام بڑا سکت ہے اسلیئے انہین سیاسی بندے کی ضرورت ہے جو قارق سے بڑھ کر کوئی نہیں ہے ۔ دوسری جانب لشکر بلوچستان کو اسلحہ کی فراہمی ایک سوبائی وزیر عبدالرحمان مینگل کر رہے ہیں جنکی گاریون میں اسلھہ سیدھا وڈھ جاتا ہے جہان سے یہ اسلحہ اختر مینگل کے بھائی کی تنطیم لشکر بلوچستان کو مل جاتا ہے جبکہ تیسرا بڑا کردار ایک ایم پی ایکا ہے وہ بھی ق لیگ ہیں



نیپال کی معدوم ہوتی پرسرار کوسنڈا زبان

پچھتر سالہ گیانی مایا سین نیپال میں وہ واحد شخصیت ہیں جو ملک کی معدوم ہوتی ایک پرسرار قبائلی زبان کوسنڈا بول سکتی ہیں۔
ماہر لسانیت کو تشویش ہے کہ گیانی مایا کے ساتھ ہی یہ زبان بھی ختم ہوجائے گی۔



یہ تشویش صرف ماہر لسانیت کو نہیں ہے بلکہ گیانی مایا بھی اسی بوجھ تلے دبی ہوئیں ہیں اور ان کی یہ پریشانی ہے بھی بلکل جائز کیونکہ نیپال میں اب ان کے علاوہ کوسنڈا زبان بولنے والا کوئی نہیں بچا۔
کوسنڈا زبان کہاں سے آئی اور اس کے پیچیدہ جملوں کی بناوٹ ماہر لسانیت کے لیے آج بھی ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔
ماہر لسانیات اور ان کارکنان کے لیے جو اس زبان کو زندہ رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، ان کے لیے گیانی مایا ایک درس گاہ سے کم نہیں۔
نیپال کی تربھون یونیورسٹی میں لسانیات کے پروفیسر مادھو پرساد پوکھریل کئی دہائیوں سے کوسنڈا زبان پر تحقیق کر رہے ہیں۔
پروفسیر پوکھریل کا کہنا ہے کہ کوسنڈا زبان ایک تنہا زبان ہے جس کا تعلق کسی اور زبان سے نہیں ملتا ہے


ان کا کہنا ہے کہ اگر کوسنڈا زبان ختم ہوگئي تو تو انسانی اثاثے کا ایک بے حد اہم حصہ ختم ہوجائے گا۔
ماہر لسانیات کے علاوہ خود گیانی مایا سین کو بھی اس بات کا احساس ہے کہ اس زبان کے خاتمے پر فکرمند رہتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے خوشی قسمتی سے میں نیپالی زبان بھی بولتی ہوں۔ لیکن مجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ میں اپنے ہی لوگوں کے ساتھ اپنی قبائلی زبان میں بات نہیں کرسکتی ہوں۔
حالانکہ کوسنڈا قبائل کے بعض لوگ ابھی بھی ہیں لیکن نہ تو وہ یہ زبان بول سکتے ہیں اور نہ اسے سمجھ سکتے ہیں۔
گیانی مایا سین کو ڈر ہے کہ ان کے مرنے کے بعد اس زبان کو بولنے والا کوئی نہیں ہوگا۔
کوسنڈا نیپال میں رہنے والا ایک قبائلی برادری ہے جو شکار کر کے اپنا گزارہ کرتے ہیں اور جنگلوں میں جھوپڑی بنا کر رہتے ہیں۔
نپیال میں قبائلوں کےفلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں اور ماہر لسانیات حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ کوسنڈا قبائل کی زبان اور ان کے سماج کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے۔
گیانی سین ان ماہر لسانی کے لیے ایک رسرچ کا موضوع ہیں جو اس زبان کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں

No comments:

Post a Comment