free glitter text and family website at FamilyLobby.com
VOTED AS NO 1 on FACEBOOK.........TWITTER.............TUMBLER

DAILY SADA-E-GHAZI 06/05/2012

تازہ ترین :کراچی: فائرنگ سے تین افراد ہلاک



کراچی کے علاقے کٹی پہاڑی میں فائرنگ کے ایک واقعے میں پیپلزپارٹی کے دو کارکن سمیت تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

پولیس کے مطابق کراچی کے علاقے کٹی پہاڑی کے قریب واقع ایک مرغی خانے پر نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ سے تین افراد ہلاک ہوگئے۔

پولیس کے مطابق یہ ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ ہے اور مارے جانے والے دو افراد سیاسی جماعت کے کارکن تھے جب کہ ایک راہ گیر بھی اس حملے میں نشانہ بن گیا۔

ادھر بلاول ہاؤس کے ترجمان اعجاز درانی نے تصدیق کی ہے کہ مارے جانے والے عمران اور مزمل پیپلز پارٹی کے مقامی کارکن تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں پیپلزپارٹی کے کارکنان کو چن چن کر مارا جا رہا ہے۔

اس واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی اور مشتعل افراد نے ایک وین اور ایک رکشے کو آگ لگادی ۔

کراچی کے علاقے لیاری میں آٹھ روز سے جاری پولیس آپریشن معطل ہونے کے بعد علاقے کے حالات معمول پرآنا شروع ہوگئے ہیں۔ آج لیاری کے علاقے لی مارکیٹ سمیت متعدد علاقوں میں اشیاے خورد و نوش کی دکانیں کھُل گئیں اور کاروبار زندگی جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہوگیا۔

آٹھ روز تک جاری رہنے والے آپریشن کے دوران لیاری میں نصب بجلی کی متعدد تنصیبات کو بھی شدید نقصان پہنچا تھا جس کی وجہ ابھی تک چیل چوک، آٹھ چوک اور اطراف کے علاقوں میں بجلی کی فراہمی بحال نہیں ہوسکی ہے۔

............................................................................................................................




ایرانی صدر کی مخالفت میں اضافہ:
روزنامہ صداے غازی (انٹرنیشنل رپورٹ ) ایران میں پارلیمانی انتخابات کے دوسرے مرحلے کی ووٹنگ کے بعد صدر احمدی نژاد کے مخالفین میں اضافہ ہوا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ میں قدامت پسند سیاستدانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

ماضی میں احمدی نژاد کو سخت گیر موقف رکھنے والے رہنماؤں کی حمایت حاصل رہی ہے تاہم اب ان میں کمی کی وجہ صدر احمدی نژاد کی جانب سے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنائی کے مقابلے میں اپنے اختیارات میں اضافے کی کوشش تھی۔

گذشتہ چند برسوں میں صدر کے حامیوں کو ملک کے اہم عہدوں سے ہٹا دیاگیا ہے جس کی وجہ سے ان کے اثرو رسوخ میں کافی کمی ہوئی ہے۔
....................................................................................................................................






پاکستان میں وکلاء کی نمائندہ تنظیموں نے چیف جسٹس پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری کی طرف سے
سپریم کورٹ میں ایڈہاک اور قائم مقام جج مقرر کرنے کی تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔
سنیچر کو یہ اعلان پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین اختر حسین نے وکلا کی نمائندہ تنظیموں کے ایک اجلاس کے بعد کیا۔

وکلا نمائندہ تنظیموں کے اجلاس میں پاکستان بار کونسل، چار صوبائی بار کونسلز کے ساتھ ساتھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشنز کے عہدیداروں نے بھی شرکت کی۔
پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین اختر حسین نے کہا کہ آئین اور سپریم کورٹ کے الجہاد کیس کے فیصلے کے تحت ججوں کی مستقل اسامی کی موجودگی میں ایڈہاک جج کی تقرری نہیں ہو سکتی۔
وکیل رہنما کا کہنا ہے کہ ججوں کی اسامی کی موجودگی میں ایڈہاک جج کی تقرری عدلیہ کی آزادی کے منافی ہے۔
اختر حسین نے روز دیا کہ سب سے پہلے سپریم کورٹ کی خالی اسامی کو پر کیا جائے۔
بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق پاکستان میں وکلاء کی نمائندہ تنظیموں کا یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب چیف جسٹس پاکستان نے سپریم کورٹ میں ایڈہاک ججوں کی تقرری کے لیے جوڈیشل کمیشن کا سات مئی کو اجلاس طلب کیا ہے۔

اجلاس میں سپریم کورٹ بار کے موجودہ صدر یاسین آزاد کے علاوہ سابق صدور عاصمہ جہانگیر اور طارق محمود بھی شریک ہوئے
پاکستان کونسل کے عہدیدار اختر حسین نے اس بات کو بھی نامناسب قرار دیا کہ وزیر اعظم گیلانی کے خلاف توہین عدالت کے کیس کا نہ تو ابھی تفصیلی فیصلہ آیا ہے اور نہ ہی اپیل دائر کی گئی ہے لیکن پہلے سے ہی ایڈہاک ججوں کی تقرری کے بارے میں بحث مباحثہ شروع ہوگیا ہے۔
اجلاس میں سپریم کورٹ بار کے موجودہ صدر یاسین آزاد کے علاوہ سابق صدور عاصمہ جہانگیر اور طارق محمود بھی شریک ہوئے۔
اختر حسین نے کہا کہ اجلاس میں شامل وکلا تنتظیموں کے نمائندوں کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ سپریم کورٹ کے کسی قسم کے ایڈہاک ججوں کی تقرری کے خلاف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئین کے تحت سپریم کورٹ میں ایڈہاک ججوں کی تعیناتی کی منظوری صدرِ پاکستان نے دینی ہوتی ہے اور وزیرِاعظم کے مشورے پر ایسا کیا جاتا ہے۔
پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین اختر حسین نے یہ خدشہ ظاہر کیا کہ ایڈہاک ججوں کی تعیناتی سے ایک ڈیڈ لاک پیدا ہو سکتا ہے۔
وائس چیئرمین نے کہا کہ وزیرِاعظم اگر اپیل دائر کرتے ہیں تو اس کے لیے سپریم کورٹ کا آٹھ رکنی بینچ سماعت کر سکتا ہے اور بات کی نظیر پہلے سے موجود ہے اس لیے بقول ان کے ایڈہاک جج مقرر کرنے کی ضرورت نہیں۔
اختر حسین نے کہا کہ ججوں کی تقرری کے لیے جوڈیشل وکلا کے مطالبے پر آئینی ترمیم کے ذریعے قائم کیا گیا تھا لیکن بقول ان کے جوڈیشل کمیشن ایک کمروز ادارہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کی کارروائی شفاف ہو اور کمیشن کے اجلاس کی کارروائی کے بارے میں بار کونسل کو علم ہونا چاہیے۔
وکلا کی نمائندہ تنظیموں کے اجلاس میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ جوڈیشل کمیشن کے رولز میں ترمیم کی جائے۔
اہلیت پر پورا نہیں
"جوڈیشل میں جو بلوچستان سے بار کونسل کا نمائندہ لیا گیا تھا اور اس اہلیت پر پورا نہیں اترتے جو کمیشن کا رکن بننے کے لیے مقرر ہے اور وکلا تنظیموں کے مطالبے کے باوجود ابھی تک اس رکن کو کمیشن سے الگ نہیں کیا گیا"
اختر حسین
پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن میں بلوچستان بار کونسل کا جو نمائندہ لیاگیا تھا وہ اس اہلیت پر پورا نہیں اترتے جو کمیشن کا رکن بننے کے لیے مقرر ہے اور وکلا تنظیموں کے مطالبے کے باوجود ابھی تک اس رکن کو کمیشن سے الگ نہیں کیا گیا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام ہائی کورٹس میں ججوں کی خالی اسامیوں کو پر کیا جائے اور نئے ججوں کی تقرری کے بارے میں بار کونسلوں سے رائے لی جائے۔
پریس کانفرنس سے سپریم کورٹ بار کے صدر یاسین آزاد نے کہا کہ اداروں کو انا کی جنگ نہیں بلکہ قانون کی جنگ لڑنی چاہیے۔
انہوں نے بلوچستان کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت اس بارے میں اپنا کردار ادا کرے اور پارلیمان کے اندر بلوچستان کے مسئلہ پر بات کی جائے۔
ایک سوال کے جواب میں پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین نے کہا کہ قانونی اعتبار سے یوسف رضا گیلانی سزا کے بعد وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہ سکتے ہیں کیونکہ بقول ان کے ابھی یوسف رضاگیلانی نے اپیل دائر کرنی ہے 
..............................................................................................................................





........................................................................................


بلوچ قوم کو ورغلانے کا وقت ختم ہوگیا میر سرفراز بگٹی 
ڈیرہ بگٹی میں انسانی حقوق کی سنگین کلاف ورزیاں کی گئیں براہمدغ بگٹی نے پچھلے سال سے لیکر آج تک ایک ہزار افراد کو اپنے غنڈوں کے ذریئعے شہید کروایا  صدائے غازی سے خصوصی بات چیت 
بارودی سرنگیں بچھانا علمی قوانین کے خلاف ہے میڈیا اس بات کا نوٹس لے ہم اقوام متحدہ اور سوئیس ھکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ براہمدغ کے خلاف جنگی جرائیم کا مقدمہ چلایا جائے 
ڈیرہبگٹی(نامہ نگار) بلوچ قوم کو ورغلانے کا دوئر ختم ہوگیا ہے ڈیرہ بگٹی میں عوام سرداری نظام اور انکے مضر اثرات سے ابھی تک نکل نہیں پائے ان خیالات کا اظہار ممتاز قبائلی رہنماء اور نوجوان سیاستدان
میر سرفراز خان بگٹی نے روزنامہ صدائے غازی سے خصوصی انٹرویو میں بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔ انہون نے روزنامہ صدائے غازی کے بیورو چیف کو اپنے انٹرویو میں کہا کہ میڈیا ہمارے دکھ درد کو سنے اور یہاں پہ جو سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی گئی ہیں انہیں میڈیا کو ریکارڈ پہ لائے ۔میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ براہمدغ بگٹی اپنے اوپر لگے ہوئے داغ دھو نہیں سکتے کیون کہ انہوں نے بیگناہ بگٹی بلوچوں کو اپنے ھکم کے تحت قتل کروایا جبکہ وہ آئے دن انٹرویوز میں کود کو پارسا ثابت کرنیکی ناکام کوشش کر رہے ہیں ۔ میڈیا آزاد ہے میں آپکے اکبار کے ذریئعے تمام میدیا کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ ڈیرہ بگٹی مین آئیں اور دیکھیں کہ کیا ہو رہا ہے ۔ بیگناہ خواتیں جو کہ شادی بیاہ کی تقریب مین جارہی ہوتی ہیں انہین بارودی سرنگون کی بھینٹ چڑھایا جاتا ہے ۔ میر سرفراز کان بگٹی نے کہا کہ یہ کیسا انصاف ہے کہ بیگناہ مارے جاتے ہیں انہین گنہگار ظاہر کیا جاتا ہے جبکہ جو مار رہے ہیں وہ میڈیا کے اندر پاک صاف اور بیگناہ ظاہر کیئے جا رہے ہیں ۔ ایک سوال کے جواب پہ کہ بلوچ نوجوانوں کو ملٹری کالج سوئی میں ذہنی طور پر گمراہ کیا جا رہا ہے میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ عجیب بات ہے انکے اپنے بچے تو یورپ کی یونیورسٹیوں مین اعلیٰ تعلیم ھاصل کر رہے ہین اگر یہان پہ پاکستان کا دوسرا بڑا تعلیمی ادارہ قائم ہوا ہے تو انہین تکلیف ہو رہی ہے 
جمیل اکبر بگٹی کے انٹر ویو کے رد عمل میں میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ پہلے تو یہ تعین کیا جائے کہ بلوچ قوم کا اصلی واڑچ کون ہے یہ لوگ یا یہاں کی مطلوم اقوام بگٹی جنہین انکے غیض و غضب کا بشانہ بنیا گیا ۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ننھے بچوں کو بارودی سرنگون پہ چڑھنا پرتا ہے یہ سب کون کر رہا ہے ؟ کس کی ایماء پر ہورہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بگٹی اقوام اب اپنا بھلا برا سب سمجھتے ہیں ۔ یہان پہ خوشحالی ہی تقی کی پہلی سیڑھی ہے انہون نے کہا دیرہ بگٹی سے اب کالی نعرے لگانیوالوں کا باب بند ہوگیاہے اور یہاں کے لوگ اب باشعور ہوگئے ہیں ۔ جنہیں حقیقی طور پہ روز گار تعلیم اور ترقی چاہیء بموں اور راکیت لانچروں بارودی سرنگوں کی بدبو سے اب یہان کے لوگوں کو گھن آتی ہے اور وہ ان سے نفرت کرتے ہیں ۔میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ہم نے یہ فیسلہ کیا ہے کہ متاثرین بارودی سرنگین کو تمام انسانی ھقوق اور درد مند حضرات کے سامنے لائیں گے اور سوئیس ھکام سمیت عالمی عدالت اور تمام سفیرون کو انسانی اپیل کریں گے کہ جو لوگ دہشتگردی کروارہے ہین انہین اپنے ممالک میں رہنے نہ دیں ۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ کچھ لوگ ق لیگ کے لبادہ میں پاکستان مکالف سرگرمیان کرنیوالون اور دہشتگردوں کو سپورٹ کرتے ہیں ۔ انہون نے کہا کہ صدر سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے ہاتھوں مین جو لسٹ وائیس فار مسنگ پرسنز نے لسٹ تھمائی ہے ان مین ۱۲۳ افراد ہین جبکہ یہ لوگ پچھلے ایک سال سے کہہ رہے تھے کہ بیس ہزار بلوچ گمشدہ ہیں یہ تو ایسا ہی مصداق ہے کہ کھود پہاڑ نکلا چوہا ۔ انہون نے چیف جسٹس جناب افتخار محمد چہدری کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ چیف ساحب نے مسنگ پرسنز کے بارے مین جو اقدام اٹھایا ہے وہ قابل تعریف ہے لیکن انہین تسویر کا دوسرا رک بھی دیکھ لینا چاہیئے اور ان افراد کے لیئے اقدامات اتھائے جائیں جو کہ تارگٹ کلنگ مین مارے جا رہے ہیں ۔ انہون نے کہا کہ عدلیہ آزاد ہے لیکن نام نہاد آزادی پسند عدلیہ کو بھی ایجنسیوں کا گماشتہ کہہ کر اسکی توہین کر رہے ہیں انہون نے کہا کہ ایف سی نے امن کی کاطر جانیں ضایع کی ہیں انہیں اسطرح گھسیٹا جا رہا ہے جیسا کہ وہ مجرم ہین جبکہ جو قاتل ہین وہ آزاد گھوم رہے ہیں ۔ انہون نے کہا بلوچستان میں دہشتگردی کرینیوالے اور اخبارات میں بیان دینے والے کابل 
اور مبئی مین بیٹھ کر مہم جوئی کر رہے ہیں عوام ایسے لوگوں کو جانتے ہیں 

MIR SARFRAZ BUGTI SITTING IN FUNCTION



لشکر بلوچستان کے مسلح لوگ غریب ٹرک ڈرائیوروں کو بھی نہیں بخشتے عوامی ھلقے 
یہ کونسی آزادی کی جدوجہد ہے جس میں بلوچ بلوچ کو لوٹ رہا ہے ٹرک ڈرائیورز ایسی سی ایشن 
جھالاوان(نامہ نگار) لشکر بلوچستان جو کہ سردار عطاء اﷲ مینگل صاحب کے پوتے بہاول مینگل کی طرف سے چلائی جارہی ہے ٹارگٹ کلنگ کے ساتھ اب یہ مسلح لوگ راتوں کو 
نیشنل ہائی وے پہ آکر لوگون کو لوٹتے ہیں خاص کر ایسے لوگ نشانہ بنتے ہین جو دو وقت کی روٹی کی خاطر اپنے روزگار کی تلاش مین نکلتے ہیں ۔ایک ٹرک ڈرایؤر نے ہمارے نامہ نگار کو بتایا کہ کل رات تین ٹرک 
ڈرائیوروں محمد جان نیک محمد غلامانی اور نعمت کو لوٹ لیا گیا اور گن پوائینٹ پر ان سے نقدی اور دوسری اشیاء لوٹ لی گئین اور ٹرکوں کے ٹائروں کی ہوا نکال کر ڈرائیوروں پہ تشدد بھی کیا گیا ۔ ٹرک ڈرئیوروں کا کہنا تھا کہ انہین مقدمہ درج کرنے نہ دیا گیا اور دھمکیاں دی جارہی ہیں




No comments:

Post a Comment