free glitter text and family website at FamilyLobby.com
VOTED AS NO 1 on FACEBOOK.........TWITTER.............TUMBLER

Thursday, 24 May 2012

DailySada-e-Ghazi25th Edition 25/05/2012

 بی ا یل اے کے ایک کارندے کو ایک خاتون کو اغوا کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا گیا
مسمات شان گل کو سبی سے لیجاتے ہوئے راحب مری کو لڑکی کے باپ کے چلانے پر پکڑ لیا گیا
پولیس نے تین گھنٹے رکھنے کے بعد بی ایل اے کی دھمکی آنے پر مجرم سفاک گینگسٹر راحب مری کو چھوڑ دیا
سبی(نامہ نگار) بی ایل اے کے ایک کارندے راحب مری کو ایک خاتون مسمات شان گل کو لیجاتے ہوئے پکڑ لیا اور پھر پولیس کے حوالے کیا گیا عوام کا احتجاج لیکن پولیس کے مطابق ملزم کو ایک بی ایل اے کے کمانڈر کی جانب سے فون پر دھمکی ملنے ایسے سفاک مجرم کو چھوڑ دیا گیا واضع رہے کہ اس سے پہلے بھی بی ایل اے کے تین کمانڈرز کے کلاف ایف آئی آر موجود ہیں لیکن کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی کیون کہ عدلیہ کی طرعف سے بی ایل اے کی کھلم کھلا ھمایت نے نئے سوالات کو جنم دیا ہے لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ مجرموں کو آزاد کیا جا رہا ہے اور غریب لوگ سازئین بھگت رہے ہیں یہ کیسا انصاف ہے
بی ایل اے والوں نے اایک ہفتہ قبل تین کواتین کو اجتمائی زیادتی کے بعد پھینک دیا تھا اور عوام نے احتجاج بھی کیا تھا
پاکستان مخالف نعرے لگانیوالے وائیس فار مسنگ بلوچ پرسنز کے چیئر مین نصراﷲ بلوچ کو سرکاری مہمان بنانا کہاں کا انصاف ہے
چیف جسٹس سے سوال ہے کہ جن کے لوگوں کو بی ایل اے نے ٹارگٹ کیا کیا انہین کبھی اسلام آباد بلواکے کوئی مدد کی گئی ہے
عوام اب بلوچستان میں عدلیہ کی ناکامی کو سمجھ چکی ہے اپنے سستی شہرت پانے کے لیے چیف جسٹس روز نئے ڈرامے نہ کریں متاثرین بلوچ
کوئیٹہ(نامہ نگار) پاکستان مخالف نعرے لگانیوالے افراد کو سرکاری خرچے پر بلوچستان ہاؤس میں ٹہرانا پھر انہیں وی وی آئی پی پروٹوکول دینا کہاں کا انصاف ہے یہ انصاف کے ساتھ مذاق اور قوم کے ساتھ غداری ہے چیف جسٹس ہوش کے ناخن لیں ورنہ ہم خود کشیوں پہ مجبور ہوجائیں گے ان خیالات کا اظہار متاثرین بی ایل اے اور دیگر دہشتگرد تنظیموں کے ذرئعے مارے جانیوالوں کے لواحقین نے کوئیٹہ میں احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ یہاں ہزاروں بیگناہ مارے گئے لیکن انہیں امداد نہیں ملی بلکہ اب بی ایل اے والوں کو امداد ملی ہے جو کہ قابل مذمت ہے اور قابل نفرت عمل ہے چیف جسٹس
صاحب اس سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں سستی شہرت یا پھر غیر ملکی ایجنٹوں کو مراعات دیکر پاک مخالف سرگرمیوں کی مدد کرنا ہے ۔لواحقین کا مطالبہ ہے کہ کیا آج تک کسی بھی بلوچ کو مارنے والے کو کوئی سزا ہوی ہے
 کوئیٹہ خضدار قلات سوراب مین زلزلے کے شدید جھٹکے
سوراب کے قریب کئی کچی عمارتوں میں شگاف پر گئے
قلات میں بھی لوگوں کا خوف و ہراس
کوئیٹہ(نامہ نگار ) کوئیٹہ خضدار قلات سوراب میں زلزلے کے شدید جھٹکے سوراب میں کئی گھروں میں شگاف پڑگئے قلات و خضدار میں بھی شدید خوف و ہراس
تفصیلات کے مطابق زلزے کے جھٹکے لوگوں میں خوف و ہراس اور عوام پریشان کلمہ استغفار پڑھا اور توبہ کیا واضع رہے کہ قلات میں اور مستونگ میں گرد آلود ہوائیں چلنے سے کافی لوگ محصور ہوکر رہ گئے








پاکستان کی امداد میں 33ملین کی کٹوتی کی منظوری
 امریکی سینیٹ نے ڈاکٹرشکیل آفریدی کی سزا کے بعد پاکستان کی تین کروڑ تیس لاکھ روپے کی امداد روکنےکی منظوری دے دی۔ پاکستان کو سالانہ دس لاکھ ڈالر کی امداد دی جاناتھی۔

پاکستان میں غداری کے الزام میں ڈاکٹرشکیل آفریدی کو سزا کے بعد امریکی سینیٹ کی کمیٹی چراغ پا ہوگئی۔ سینیٹ کی کمیٹی کے اجلاس میں امداد میں کٹوتی پرریپبلکن سینیٹرلنِڈسے گراہم نےزور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔ لیکن امریکا پاکستان سے ڈبل ڈیلنگ نہیں چاہتا۔

انہوں نے پاکستان کو ایک ایسا اتحادی قراردیا جو ایک طرف امریکاکی مدد کرتاہے دوسری جانب حقانی نیٹ ورک کو بھی پروان چڑھانے میں مدد دے رہاہے۔امریکی سینیٹ کی کمیٹی نے آئندہ سال کیلئے پاکستان کی امداد میں نصف سے زائدکمی کی منظوری دی۔

کمیٹی نےاپنے فیصلے میں کہاکہ اگر پاکستان نیٹو سپلائی بحال نہیں کرتا تو اس کی امداد میں مزید کی جائے گی۔ ریپبلیکن اور ڈیموکریٹس سینیٹرز نے پاکستان کو شکیل آفریدی کی سزا کے معاملےپرکڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ امداد کی کٹوتی پرامریکی سینیٹ کی کمیٹی کےتمام ارکان میں اتفاق پایاگیا۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی کی سزا پر امریکا چراغ پا
 
 ڈاکٹر شکیل آفریدی کی سزا پر سخت امریکی ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے اسامہ بن لادن کی نشاندہی ميں مدد کرنے والے شخص کو غدار قرار دیناپاکستان کی سنگين غلطی ہوگی ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی محکمہ دفاع پینٹا گون کے ترجمان جارج لٹل کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر آفریدی کا عمل پاکستان نہیں بلکہ القائدہ کے خلاف تھا ۔اسامہ بن لادن کی جاسوسی پاکستان سے غداری نہیں۔

سینیٹر جان مکن کین اور سینیٹر کارل لیون نے مشترکہ بیان میں دھمکی دی ہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کی سزا پاکستان کو دی جانیوالی امداد پر اثر انداز ہو سکتی ہے ۔ امریکی سینیٹرز نے ڈاکٹر شکیل کی سزا کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ امریکی کانگریس کے رکن روہرا بیکر کے خیال میں ڈاکٹر آفریدی کی سزا سے دنیا میں یہ تاثر جائے گا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکا کا ساتھ










































No comments:

Post a Comment