پاک بھارت مذاکرات کا مشترکہ اعلامیہ جاری

بھارت نے کہا
ہےکہ بلوچستان میں کہیں مداخلت نہیں کی۔ سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کی
تحقیقات سے پاکستان کو آگاہ کردیا ہے۔ پاک بھارت سیکریٹری داخلہ مذاکرات
میں ممبئی حملوں پر مل کر تحقیقات آگے بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ مذاکرات کا
مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا۔
بھوربن بن میں پاک بھارت سیکریٹری داخلہ مذاکرات ہوئے۔ پاکستان کی جانب سےسیکریٹری داخلہ کےایم صدیق اکبراور بھارت کی جانب سے شری راج کمارسنگھ نے شرکت کی۔ مذاکرات دودن تک جاری رہے جس کےبعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔
اعلامیے میں کہاگیا ہےکہ ممبئی حملوں پر مل کر تحقیقات آگئے بڑھائیں گے۔ دہشتگردی دونوں ممالک کی سلامتی کیلئے خطرہ ہے۔ بھارتی سیکریٹری داخلہ نے کہاکہ بلوچستان میں کہیں بھی بھارتی مداخلت نہیں ہورہی۔ ان کا کہنا تھا کہ سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس پرتحقیقات سے پاکستان کو آگاہ کیاہے۔ آرکے سنگھ نے کہاکہ دونوں ممالک نے مل کر آگے بڑھنے پر اتفاق کیاہے۔ دہشتگردی میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرےمیں لایا جائے گا۔
بھوربن بن میں پاک بھارت سیکریٹری داخلہ مذاکرات ہوئے۔ پاکستان کی جانب سےسیکریٹری داخلہ کےایم صدیق اکبراور بھارت کی جانب سے شری راج کمارسنگھ نے شرکت کی۔ مذاکرات دودن تک جاری رہے جس کےبعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔
اعلامیے میں کہاگیا ہےکہ ممبئی حملوں پر مل کر تحقیقات آگئے بڑھائیں گے۔ دہشتگردی دونوں ممالک کی سلامتی کیلئے خطرہ ہے۔ بھارتی سیکریٹری داخلہ نے کہاکہ بلوچستان میں کہیں بھی بھارتی مداخلت نہیں ہورہی۔ ان کا کہنا تھا کہ سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس پرتحقیقات سے پاکستان کو آگاہ کیاہے۔ آرکے سنگھ نے کہاکہ دونوں ممالک نے مل کر آگے بڑھنے پر اتفاق کیاہے۔ دہشتگردی میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرےمیں لایا جائے گا۔
بھارتی جاسوس سربجیت سنگھ کوآئندہ ہفتے رہا کردیا جائیگا
امریکا میں
پاکستان کی سفیر شیری رحمان کا کہناہے کہ بھارتی جاسوس سربجیت سنگھ کو
آئندہ ہفتے رہا کردیا جائیگا۔ بھارتی صحافی سے ٹوئیٹر پر بات چیت کرتے ہوئے
شیری رحمان کا کہنا تھا کہ سر بجیت سنگھ آئندہ ہفتہ اپنے ملک میں ہو گا۔شیری رحمان کا کہنا ہے کہ سر بجیت سنگھ کی رہائی سے پا ک بھارت تعلقات کی نئی راہیں کھلیں گی ۔
بس حملے میں ملوث افراد جلد بے نقاب ہوجائیں گے،قائم علی شاہ
وزیراعلی
سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ کراچی ریلی فائرنگ میں ملوث کچھ لوگ
گرفتار ہوئے ہیں دوچار روز میں معلوم ہوجائے گا حساس مسئلہ ہے تفصیل سے بات
کرونگا۔سکھر ائیر پورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نواب شاہ بس حملے کو کراچی واقعات سے نہ جوڑا جائے کراچی معاملہ مختلف ہے ان کا کہنا تھا کہ بس حملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا انکوئری درست سمت جارہی ہے جلد لوگ بے نقاب ہوجائیں گے۔
سندھ کی ممکنہ تقسیم کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ سندھ کو پہلے بھی نشانہ بنایاگیا ہے۔ سندھ کی عوام غافل نہیں سمجھ بوجھ رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ کون سی قوتیں لڑوانے کی کوششیں کر رہی ہیں۔ اسپیکر کی رولنگ کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ رولنگ آئین کے مطابق ہے اسپیکر نے رولنگ وکلاء سے مشاورت کے بعد کی ہے۔
حافظ سعید ممبئی حملوں میں ملوث نہیں، رحمان ملک

وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ ہماری تحقیقات کے مطابق حافظ سعید ممبئی حملوں میں ملوث نہیں ہے۔ کراچی ائرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے دھری شہریت ختم کردی ہے جلد ثبوت فراہم کردیں گے۔
کراچی میں امن وامان،صدر زرداری کی زیر صدارت اجلاس
صدر آصف علی
زداری کی زیر صدارت کراچی میں امن و امان سے متعلق اجلاس کا انعقاد کیا گیا
ہے۔ اجلاس میں کراچی سمیت سندھ میں امن و امان سے متعلق تبادلہ خیال کیا
جائے گا۔
اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک ، وزیر اعلی سندھ قائم علی شاہ شریک ہیں جو کراچی سمیت سندھ میں امن برقرارر کھنے کے لیے اپنی تجاویز دیں گے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک ، وزیر اعلی سندھ قائم علی شاہ شریک ہیں جو کراچی سمیت سندھ میں امن برقرارر کھنے کے لیے اپنی تجاویز دیں گے۔
فرح نازاصفہانی کی رکنیت معطل کرنےکو چیلنج کریں گے،حسین حقانی
سابق سفیر
حسین حقانی نے کہا کہ وہ فرح ناز اصفہانی کی اسمبلی رکنیت معطل کرنے کے
فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر
اپنے پیغام میں حسین حقانی نے کہا کہ فرح ناز اصفہانی کی اسمبلی رکنیت معطل
کرنے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔
انہوں نے ٹوئٹ کیا کہ پاکستان میں بہت سے ارکان اسمبلی دہری شہریت کے حامل ہیں پھر فرح اصفحانی ہی کیوں۔ حسین حقانی کا کہنا تھا کہ ہر ملک کا شہریت سے متعلق اپنا قانون ہوتا ہے اور کوئی بھی قانون شہریت واپس لینے کی اجازت نہیں دیتا۔
انہوں نے ٹوئٹ کیا کہ پاکستان میں بہت سے ارکان اسمبلی دہری شہریت کے حامل ہیں پھر فرح اصفحانی ہی کیوں۔ حسین حقانی کا کہنا تھا کہ ہر ملک کا شہریت سے متعلق اپنا قانون ہوتا ہے اور کوئی بھی قانون شہریت واپس لینے کی اجازت نہیں دیتا۔



No comments:
Post a Comment