![]() |
| BLACK WATER CHIEF OF BALOCHISTAN MALIK SIRAJ AKBAR WITH MIKE MULLEN |
بلیک واٹر اور سی آئی اے کی سازشیں
بلوچستان سازشوں کا مرکز چیف جسٹس سے نوٹس لینے کی درخواست
عدلیہ نے اگر اسی طرح آزاد بلوچستان کی حمایت کی تو بہت سارے معمالات خراب ہوسکتے ہیں
کابل (مانیٹرنگ ڈیسک) بلیک واٹر اور سی آئی اے کی سازشوں میں ایک سازش کا کردار ملک سراج اکبر سینئر صحافی ہین جو آجکل امریکہ مین رہتے ہیں
روزنامہ صدائے غازی کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ملک سراج اکبر جو کہ بھارت مین تعلیم حاصل کرچکے ہین جنکا تعلق پنجگور سے ہے آجکل امریکہ مین رہتے ہیں ۔ملک سراج اکبر روزنامہ ٹائیمز کے لیئے لکھتے رہے ہین اسکے ساتھ را اور امریکن سی آئی اے بلیک واٹر کے پکے ایجنت ہیں ، اسکے علاوہ بلیک واتر کی ایک کیمپ کا انکشاف نوشکی اور چاغی میں ہوا ہے ۔بلیک واتر کا کام نوجوانوں کو تربیت دینا ہے اور انکی سرگرمیوں کو بڑھانا ہے اسی طرح ایک اور سازش جسکا کہ زکر ہم پہلے بھی کرچکے ہیں جس میں پولیس اور لیویز اہلکارون کے ساتھ وہ لوگ بھی ہیں جو کہ ھکومت میں بیٹھے ہیں ملک سراج اکبر کا نیٹ ورک اس وقت واشنگٹن اور اسکے علاوہ پنجگور اور چاغی نوشکی قلات کوئیٹہ مین کام کر رہا ہے اور وہان سے ماہانہ لرکون کے لیئے پیسے بھی بھجواتے ہیں ملک سراج اکبر کے علاوہ آجکل تین سو نوجوان بلوچستان مین بلیک واتر کے لیئے کام کر رہے ہیں جن مین خواتین بھی ہیں ۔بلیک واتر بلوچستان کا نام آجکل کماشی ہے کماشی بلوچی زبان میں بڑے کو بولتے ہیں کماشی یعنی بڑی اور کماش یعنی برا ہے بلیک واٹر کے لوگ نوجوانوں کو بلوچستان میں اسلحہ فراہم کرتے ہیں انکی ان تمام کوششوں کو دیکھتے ہوئے امریکی اہلکاروں نے ہلمند میں ایک افغھان رام کے ایجنٹ کریم شاگزئی کو مقرر کیا ہے جو کہ اسلحے کی ترسیل کر ہرا ہے ۔ بلیک واتر کے لیئے پیٹرول سے چلنے والی پانکی گاڑیان جو ریگستان اور پہاڑوں میں نہایت ہی تیز چلتی ہیں اسکے علاوہ کچھ اور بھی کام کیئے جارہے ہیں جس مین ٹارگٹ کلنگ کا کام سر فہرست ہے
![]() |
| VEHICLES USED FOR BLACKWATER AND CIA AGENTS IN CHAGHI AREA TAKING WEAPONS FOR BLA,BRA BLF CAMPS |
![]() |
| A TARGET KILLER OF BLACKWATER CIA AGENT |
![]() |
| WEAPONS LOADED ON PANKI VEHICLES FOR BLACKWATER |
بلوچ اقوام اپنی مرضی کے مطابق رہنا چاہتے ہیں میر قمبر بلوچ
اب قوم پرستوں نے تسلیم کیا کہ الیکشن میں حسصہ نہ لیکر انہوں نے عظیم غلطی کی سربراہ بلوچ دیموکریٹک فرنٹ
کراچی(بیورو رپورٹ) بلوچ اقوام اپنی مرضی کے مطابق رہنا چاہتے ہیں کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ لنڈن یاسوئیٹزر لینڈ میں بیٹھ کر بلوچوں کی قسمت کا فیصلہ کریں
ان خیالات کا اظہار بلوچ دیموکریٹک فرنٹ کے چیئرمین واجہ قمبر بلوچ نے کراچی میں بی دی ایف کی سربراہی کرتے ہوئے کہا انہوں نے کہا کہ بلوچوں کے ساتھ مذاق کھیلا گیا اپنے مفادات کی خاطر الیکشن کا بائیکاٹ کیا گیا اور اسکا نتیجہ یہ نکلا کہ نوجوانوں کو غلط راہ پہ لے جایا گیا ۔ انہو ں نے کہا کہ اب بلوچ ہی اپنی قسمت کا فیصلہ کرسکتے ہیں ۔ امریکہ یا برطانیہ یا بھارت ہمارے مفاد میں نہیں ہم پاکستان کے اندر رہتے ہوئے اہنے ھقوق کی بات کریں گے اور ہمیشہ حقوق کی جنگ لڑتے رہیں گے ۔ میر قمبر نے کہا کہ آج سے ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ بلوچ دیموکریٹک فرنٹ ان صرف پاکستان کے سیاسی حلقوں سے ملکر کام کریں گے اور اپنی شناخت کو
بچائیں گے
ڈیرہ بگٹی میں بلوچ ریپبلیکن آرمی کی جانب سے غنڈہ ٹیکس لینے کی خاطر فصلات کی لوٹ مار جاری
بی آر اے کمانڈرز آتے ہیں اور غلہ لوت کے لیجاتے ہیں کسانوں کی آہ و فریاد
اٹھا کے بلوچ سرمچاروں کو بد دعائیں کر رہے ہیں ۔ بلوچ عوام کو اب ان نام نہاد آزادی پسندوں سے نجات چاہیئے اور حکومت کو چاہیئے کہ گریب بگٹی عوام کی مدد کریں اور انہیں تحفظ فراہم کریں تاکہ لوگ سکھ کا سانس لے سکیں ۔عوام کا کہنا ہے کہ ڈیرہ بگٹی کے عوام نے ایسے اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ۔
بی ایل اے کے کمانڈرز کی ایک گھر پر چڑھائی ایک بلوچ لڑکی مسمات بانڑی کو اغوا کرلیا
واقعہ شوران کے قریبی پہاڑوں میں پیش آیا والدین پریشان
رکھنی میں بی ایل اے کی کاروائی تین افراد کو قتل کردیا
نعمت ، اسد خان اور بہاوال کو اسوقت روکا جب وہ سبی سے رکھنی جا رہے تھے
بی ایل کے کمانْدر دینو مری گروپ جو کہ اگوا برائے تاوان میں ملوث ہے ان افراد کو قتل کیا ۔واضع رہے کہ اس سے پہلے مسمات نگار خاتون جو کہ بہاول کی بہن تھی اسکے ساتھ اجتمائی زیادتی کی گئی اور انہیں قتل کرکے انکی لاش رکھنی نالہ مین پھینک دی گئی تھی ،۔بہاول کے زبان کھولنے پر آج یہ کاروائی ہوئی ہے ۔عالقے کے عوام نے ان معوصوم شہریون کے قتل کی مذمت کی ہے اور حکومت سے کاروائی کرنیکی اپیل کی ہے
کوئٹہ:احتجاج کرنے والے سرکاری ملازمین پر پولیس کی شلیلنگ
کوئٹہ میں مطالبات کے حق میں احتجاج کرنے والے سرکاری ملازمین پرپولیس نے لاٹھی چارج اور شیلنگ کردی جس کی وجہ سے کئی ملازمین بے ہوش اور زخمی ہوگئے۔
ایپکا کے صوبائی صدر داد محمد بلوچ سمیت متعدد ملازمین کو گرفتار کرلیا گیا۔ تنخواہوں اور مراعات میں اضافے سمیت دیگر مطالبات کے حق میں مختلف سرکاری محکموں کے ملازمین نے آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام کوئٹہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کے سبزہ زار سے احتجاجی ریلی نکالی ۔
ریلی میں شریک سینکڑوں ملازمین ہاکی چوک پہنچے جہاں انہوں نے تین گھنٹے تک دھرنا دینے کے بعد گورنر ہاؤس اور وزیر اعلی سیکرٹریٹ کی جانب جانے کی کوشش کی تو پولیس نے لاٹھی چارج،ہوائی فائرنگ اور شیلنگ کردی شیلنگ سے متعدد ملازمین بے ہوش اور زخمی ہوگئے۔
ایپکا کے صوبائی صدر داد محمد بلوچ سمیت متعدد ملازمین کو گرفتار کرلیا گیا۔ تنخواہوں اور مراعات میں اضافے سمیت دیگر مطالبات کے حق میں مختلف سرکاری محکموں کے ملازمین نے آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام کوئٹہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کے سبزہ زار سے احتجاجی ریلی نکالی ۔
ریلی میں شریک سینکڑوں ملازمین ہاکی چوک پہنچے جہاں انہوں نے تین گھنٹے تک دھرنا دینے کے بعد گورنر ہاؤس اور وزیر اعلی سیکرٹریٹ کی جانب جانے کی کوشش کی تو پولیس نے لاٹھی چارج،ہوائی فائرنگ اور شیلنگ کردی شیلنگ سے متعدد ملازمین بے ہوش اور زخمی ہوگئے۔
لاہور:23ملزمان اشتہاری قرار، قیدی سے پستول اور موبائل برآمد
محکمہ داخلہ پنجاب نے تیئس ملزمان کو اشتہاری قرار دیکر ان کے سروں کی قیمت مقرر کردی جبکہ کوٹ لکھپت جیل کے قیدی سے ایک پستول اور موبائل فون برآمد کر لیا گیا۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے قتل ، ڈکیتی اور دیگر بڑی وارداتوں میں ملوث تیئس ملزمان کے سروں کی قیمت دو لاکھ سے بیس لاکھ تک مقرر کی ہے۔
دوسری جانب ہوم سیکریٹری کی ہدایت پر چھاپے کے دوران کوٹ لکھپت جیل کی بیرک میں ایک قیدی سے پستول اور موبائل فون برآمد کر لیا گیا۔ اہم ادارے نے حکومت کو اطلاع دی تھی کہ جیل میں موبائل فون کا استعمال عام ہے اور جیل کا عملہ قیدیوں اور حوالاتیوں کو ممنوع اشیا فراہم کرتا ہے۔
بلوچستان حکومت کی جانب سے شاہ زین بگٹی کو وی وی آئی پی پروٹوکول
جب بھی پیشی پہ جاتے ہیں تو تین تین ایس ایس پیز ساتھ جاتے ہیں
شاہ زین اور والد کے اختلافات شدید ہوگئے طلال بگٹی کے اکاوئینٹ سے شاہ زین نے بیس کروڑ رائیلتی کی رقم نکال کر عیاشیاں کی تھیں
کوئیٹہ(نامہ نگار) بلوچستان ھکومت کی طرف سے شاہ زین بگٹی جو کہ اسلحہ کیس میں گرفتار ہے وی وی آئی پی پروٹوکول مل رہا ہے جبکہ انکے والد طلال اکبر بگٹی کی طرف سے شاہ زین کو
وی وی آئی پروٹوکول نہ دینے اور جیل کے اندر سہولیات نہ دینے کی باتیں بھی عام ہورہی ہیں ذرائع کے مطابق شاہ زین بگٹی نے گیس رائیلٹی کی رقم کو اسلحے کی کریداری کے علاوہ اسلام آباد اور لاہور میں عیاشیاں کرنے اور والد کی نافرمانی پہ کافی ناراض ہیں اور شدید اختلافات پائے جاتے ہیں ۔ ایک بگٹی قبیلے کے فرد جو کہ کوئیٹہ میں سیکورٹی پہ مامور ہیں بتایا کہ باپ بیتے میں کئی مرتبہ تلخ کلامی بھی ہوئی تھی اور شاہ زین نے فراڈ کرکے اپنے والد کے اکاؤنٹ سے بیس کروڑ نکالے تھے جو انہیں نواز شریف نے دیئے تھے جبکہ ایک اور بات بھی سامنے آئی ہے کہ شاہ زین بی ایل اے اور بی آر اے والوں کو اسلحہ دیتے ہیں جسکی وجہ سے طلال اکبر بگٹی کو شدید پریشانی لاحق ہے ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ ابھی تک طلال جیل میں اپنے بیٹے سے ملنے تک نہیں گیا وہ اکثر گہرام بگٹی کو ہی آگے لانے کے چکروں میں ہیں جبکہ شاہ زین نے دو دن قبل جیل میں شراب کثرت سے پی لی تھی جسکی وجہ سے انکی طبیعت کراب ہوگئی اور انہین ہسپتال منتقل کردیا گیا
براہمدغ بگٹی اوور جمیل اکبر بگٹی میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
دونوں ایک دوسرے پر سبقت لیجانے کی کوششوں مین مصروف
اختلافات کی وجہ جائیداد کا تنازعہ اور سیایسی بیانات ہیں
لاہور(بیورو رپورٹ) جمیل اکبر بگٹی جو کہ گورنر بلوچستان نواب مگسی کے ہم پیالہ ہیں اور ایک فوجی جنرل کے بیٹے کے گھر انکی بیٹی کا رشتہ ہوا ہے براہمدغ بگٹی آج کل ان سے کافی ناراض دکھائی دیتے ہیں
راجن پور میں مقیم ایک بگٹی معتبر نے بتایا کہ براھمدغ بگٹی خود کو ایک عالمی لیدر سمجھتے ہوئے جمیل کی سیاسی سرگرمیون سے کافی نالاں ہیں انہون نے یہ بھی کہا ہے کہ جمیل اکبر بگٹی جو کہ براہمدغ بگٹی کے چچا ہیں وہ نواب کے جانشین نہین بلکہ براھمدغ بگٹی ہیں ۔جمیل اکبر بگٹی آج کل کفیہ طور پر صدر زرداری سے بھی مل چکے ہیں اور انکی کافی ملاقاتیں اور جگہ پہ بھی ہوئی ہیں ۔چھ ماہ قبل جمیل کی ایک ملاقات نواز شریف اور ایک فوجی جنرل سے ہوئی تھی جس میں جمیل نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ شاہ زین بگٹی کی بجائے رائیلٹی اور دیگر رقومات انہیں دی جائیں ۔ جبکہ براہمدغ نے دھمکی آمیز فون کرکے جمیل کو کہا تھا
کہ وہ نواب بگٹی کیس لڑنے نہ جائین جس پر جمیل نے براھمدغ کو برا بھلا کہا تھا واضع رہے کہ اختلافات اب اتنے ہوگئے ہیں کہ چچا بھتیجا اب بات ہی نہین کرتے
ڈاکٹر خلیل چشتی صدر کے خصوصی طیارے میں بھارت سے اسلام آباد ایئر پورٹ پر پہنچ گئے
بیس سال بعد ڈاکٹر خلیل چشتی کی آمد خوشی کا سماں
وفاقی وزیر داکلہ انہیں لینے کے لیئے ایر پورٹ پر پہنچ گئے
اسلام آباد(مانیترنگ ڈیسک) ڈاکٹر خلیل چشتی کی واپسی صدر مملکت کی کوششوں سے و اپسی ممکن ہوئی ہندستان میں بھائی سے ملنے گئے تھے اور وہاں پہ ایک ہنگامے پر انکے خلاف قتل کا مقدمہ درج ہوا تھا
بھارتی سپریم کورٹ نے انہین رہائی کے اھکامات دیئے تھے ۔ڈاکٹر خلیل چشتی نے صدر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ۔اسلام آباد ایئر پورٹ پر وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک وفاقی وزیر بابر غوری اور پیپلز پارٹی کے ارکان بڑی تعداد میں موجود تھے ۔اسلام آباد میں جشن کا سماں دکھائی دیا ۔
| ||










No comments:
Post a Comment