قاتل کو راضی نامے کا حق نہیں ملنا چاہیے
لاہور میں غیر سرکاری تنظیم عورت فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام سیمینار میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ غیرت کے نام پر ہونے والے قتل میں قاتل کو قصاص اور دیت کے قانون کے تحت راضی نامے کا حق نہیں ہونا چاہیے۔
اس سیمینار میں عورتوں کے خلاف جرائم کے سدباب کے لیے سنہ 2004 میں بنائےگئے قانون میں مناسب ترامیم کی سفارش کی گئی۔
لاہور میں بی بی سی کی نامہ نگار مناء رانا کے مطابق فوجداری قوانین کے ماہر ایڈوکیٹ حسام قادر شاہ نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سنہ 2004 میں بنائے گئے قوانین میں ترامیم ضروری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ غیرت کے نام پر جو قتل کیے جاتے ہیں انہیں قصاص اور دیت کے قانون کے تحت قابل راضی نامہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اگر یہ قتل بھی قصاص اور دیت کے زمرے میں لائے جائیں تو ان کا غلط استعمال ہو سکتا ہے۔
سمینار میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ آیا غیرت کے نام پرہونے والے قتل میں ولی حکومت کو قرار دیا جانا چاہیے یا نہیں اور یہ کہ ایسا کرنا کس طرح سے اسلامی قوانین سے متصادم ہے کیونکہ اسلام کے مطابق مقتول کے مقدمے کی پیروی اس کے ورثاء کا حق ہے جبکہ غیرت کے نام پر جو قتل کیے جاتے ہیں ان میں زیادہ تر مقتول یا مقتولہ کے اپنے قریبی رشتہ دار ہی ہوتے ہیں۔
ریٹائرڈ جسٹس ناصرہ جاوید نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قصاص اور دیت کے قانون میں غیرت کے نام پر قتل کو قابل راضی نامہ نہیں ہونا چاہیے اور ایسے معاملات میں پنچایت کا کردار بھی درست نہیں ہوتا۔
عورت فاؤنڈیشن کی نمائندہ شمائلہ تنویر کے بقول 2004 میں خواتین کے خلاف جرائم پر قانون بننے کا فائدہ تو ہوا ہے لیکن اس قانون میں جن ترامیم کا مطالبہ کیا جا رہا ہے اس سے مزید بہتری ہو سکتی ہے۔
شمائلہ تنویر نے گزشتہ چند سالوں میں غیرت کے نام پر ہونے والی ہلاکتوں کی تفصیلات بتائیں انہوں بتایا کہ 2009 میں 604 قتل غیرت کے نام پر ہوئے جن میں 245 قتل پنجاب میں ہوئے، 2010 میں ملک بھر میں 557 قتل ہوئے جن میں 233 پنجاب میں ہوئے جبکہ 2011 میں یہ تعداد 705 ہو گئی جن میں سے 322 قتل پنجاب میں رپورٹ ہوئے۔
شمائلہ تنویر کے مطابق اس کی ایک وجہ تو پنجاب کی آبادی کا زیادہ ہونا ہے جبکہ ایک اور وجہ یہ ہے کہ چونکہ پنجاب میں ذرائع ابلاغ خواتین کے خلاف جرائم کی بھر پور رپورٹنگ کرتے ہیں اس لیے ایسے واقعات زیادہ منظر عام پر آ جاتے ہیں جبکہ دوسرے صوبوں میں بھی غیرت کے نام پر قتل کے واقعات کافی ہیں لیکن ان میں کئی رپورٹ نہیں ہوتے۔
کوئیٹہ میں شاہزین بگٹی کا نجی جیل اندر کی کہانی
کوئیٹہ مین دو ماہ قبل ایک ایسا شخص جسکا تعلق بگٹی قبیلے سے تھا اغوا ہوا
جب انکے خاندان والون نے کھوج لگائی تو پتہ چلا کہ وہ جناب شاہ زین بگٹی
کے گھر واقع بگٹی ہاؤس کوئیتہ میں قید ہے ۔ عزیز و اقارب کی منت سماجت کے
باوجود نور محمد بگٹی جو کہ ایجوکیشن میں کلرک تھا نہیں چھوڑا گیا یہان تک
کہ بات ہائی کورٹ تک جا پہنچی جناب چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس فائیز
عیسیٰ کی عدلات نے نہ سرف نور محمد بگٹی کو بری کروایا بلکہ یہ ھکم جاری
کیا کہ شاہ زین بگٹی کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کیا جائے ۔ جس پر پولیس نے
مقدمہ درج کرلیا لیکن کون ہے جو شاہ زین کو گرفتار کرے اور چند دن پہلے
شاہ زین نے جب اسلح سمگلنگ کیس میں گرفتاری دی تو نور محمد کے مقدمے میں
بھی شاہ زین پہ فرد جرم عائد کی گئی ، اب دیکھنا یہ ہے کہ کونسی عدالت شاہ
زین کو سزا دیتی ہے ۔ نور محمد کے متعلق ہمارے صدائے غازی نے جب پوچھا تو
پتہ چلا کہ نور محمد کا ایک بنگلہ سریاب روڈ پر تھا جسے شاہ زین نے اپنے
گارڈز کے لیئے ان سے مانگا تھا اور یہ کہہدیا کہ بنگلہ انہی کا ہے انکے
انکار پر شاہ زین کے مسلح دستے نے انہین اٹھا کر ایک ماہ تک قید میں رکھا ۔
ہم انسانی حقوق کمیشن اور تما اہل پاکستان سے یہ دردمندانہ اپیل کرتے ہیں
کہ اب تو وہ بولیں اگر انہون نے لب کشائی نہیں کی تو ہر کسی کو ایک نہ ایک
دن خدا کے ہان جوب دینا پڑے گا نور محمد بگٹی جیسے کئی بیگناہ
لوگ ان ظالم سردارون کے قید مین بند ہیں ہمین تو یہ ھیرت ہوئی کہ اب تک
اسکا میڈیا مین کوئی بھی ذکر نہین آ خر کیوں ؟ کیوں انسانی حقوق والے اب
تک خاموش ہیں یہ کوئیٹہ کا ایک بہت بڑا واقعہ ہے اور اس مظلوم سرکاری
ملازم کو اگر انصاف نہیں ملا تو ہم سب ذمہ دار ہوں گے
آخر یہ سب عذاب ہم پر کیوں آتے ہیں؟ کبھی ہم نے غور کیا کہ یہ سب کیوں ہو رہا ہے ہمارے ساتھ؟ کبھی زلزلے، کبھی سیلاب، کبھی ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنے کا عذاب؟
آئیں تھوڑا پس منظر میں جاتے ہیں جہاں ہمارے آباء و اجداد الله سے وعدہ کر رہے تھے کہ اے الله ہمیں ہندو اور انگریز کی دھری غلامی سے نجات دے، ہمیں ایک آزاد ملک دے جہاں ہم تیرے دین کا بول بالا کریں گے۔ تیرے نبی کا دیا نظام قائم کریں ۔ ہم اسلام کے نظام کو قائم کر کے یہاں سے امّت مسلمہ کا احیا کریں گے۔۔ ہم نے نعرے لگائے کہ پاکستان کا مطلب کیا " لا الہ الا اللہ " الله نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور ہمیں زمین کی حکمرانی دی ۔۔ "قریب ہے وہ وقت کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنائے، پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو"سورة الأعراف(129) پھر اس کے بعد ہم اپنے وعدے سے مکر گئے۔ الله نے کہا کہ وَهُوَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ إِلَٰهٌ وَفِي الْأَرْضِ إِلَٰهٌ اور وہی (ایک) آسمانوں میں معبود ہے اور (وہی) زمین میں معبود ہے۔ سورة الزخرف 84 مگر ہم نے کہا نہی الله آسمانوں کا إله تو ہو گا زمین کا نہی. زمین کے حکمران ہم خود ہیں "sovereignty belongs to peoples" یہاں اس کا بنایا قانون مانا جائے گا جو عوام سے ووٹ لے کر حکمران بنتا ہے، حاکمیت صرف اسی کی ہو گی، وہ چاہے خلاف قران قانون بنائے ہم سر تسلیمِ خم کرتے ہیں۔۔ پھر حکمرانوں نے امریکہ کو اپنا إله بنا لیا اور ہم دیکھتے رہے ۔ اسلام کے نام پر بننے والے اس ملک میں ہم نے انفرادی اور اجتماہی سطح پر وہ وہ جرائم کیے، وہ وہ ظلم کیے جس کی نظیر نہی ملتی۔ ہم نے ہر وہ کام کیا جو اسلام کے خلاف تھا ۔ ہم نے اسلام کا نام لینے والوں پر مساجد میں بمباری کی، ان پر فاسفورس بم پھینکے۔ ہم نے اپنے ملک کے اندر سیاست کے لیے قتل و غارت اور ظلم و ستم کا بازار گرم کیا۔۔ پاکستان بننے سے پہلے ہم الله سے وعدے کرتے تھے کہ "ایک ہوں گے مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے"، اور پاکستان بننے کے بعد ہم نے نیشنلزم کو پروان چڑھایا۔ ہم نے کہا کہ عراقی و افغانی مسلمان سے ہمارا تو کوئی تعلق نہی ہم نے "سب سے پہلے پاکستان" کے نعرے لگائے۔ اور اس تازہ صلیبی جنگ "وار اگینسٹ اسلام" میں صلیبیوں کے "فرنٹ لائن اتحادی" بنے۔ اسلام نے نام پر قائم ہونے والی اس "پاک سر زمین" سے ستاون ہزار بار امریکی طیارے اڑ اڑ کر ہمارے پڑوس میں غریب اور مظلوم مسلمان بچوں کے چیتھڑے اڑاتے رہے اور ہم ڈالر لے کر ناچ گانوں اور فحاشی و عریانی پھیلانے میں مصروف ہو گئے۔۔ آج بھی صلیبی افواج(نیٹو) کا سامان رسد ہماری سرزمین سے، ہماری نگرانی میں جاتا ہے۔ اس سب کے باوجود ہم خود کو اسلام کا ٹھیکیدار سمجھتے ہیں ۔ ہم نے ڈالروں کی خاطر اپنی بیٹیوں کو فروخت کیا ۔۔ اپنے بچوں، خواتین اور بزرگوں کو ڈرون حملوں میں شہید کروایا۔ ہمارے جرائم کی فہرست بہت طویل ہے۔۔۔ ہم نے تو پڑوس کے اسلامی ملک کے سفیر تک تو نہی چھوڑا اسے بھی تمام سفارتی آداب کو بالا طاق رکھتے ہوئے امریکہ کو فروخت کر دیا۔ ھم نے ہر ہر موقع پر الله سے وعدہ خلافی کی، اس کا قوانین کا مذاق اڑایا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم پر ایک عذاب نازل ہو رہا ہے۔ وَلَنُذِيْـقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ اور ہم چکھاتے رہیں گے ان کو چھوٹے چھوٹے عذاب اس بڑے عذاب سے پہلے تاکہ یہ لوگ باز آجائیں (اپنی سرکشی سے) سورة السجدة 21 یہ چھوٹے عذاب ہیں ہمیں جنجھوڑنے کے لیے ، کبھی زلزلہ آ گیا، کبھی سیلاب آ گیا ، کبھی طیارے گرے، کبھی تودے گرے، کبھی ملک دو لخت ہوا، کبھی ہم بوری بند لاش بنے۔ ہم نے اس " الْعَذَابِ الْاَدْنٰى" سے بھی کوئی سبق نہی سیکھا، اب "الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ" سروں پر کھڑا ہے ۔ قوموں پر بڑا عذاب دنیا میں یہ ہوتا ہے کہ اس قوم کو جڑ سے اکھاڑ دیا جاتا ہے ۔ یعنی"تمہاری داستان تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں"۔ کسی نے یہ بقراط سے جاکے پوچھا مرض تیرے نزدیک مہلک ہیں کیا کیا کہا دکھ جہاں میں نہیں کوئی ایسا کہ جس کی دوا حق نے کی ہو نہ پیدا مگر وہ مرض جس کو آسان سمجھیں کہے جو طبیب اس کو ہذیان سمجھیں دوا اور پر ہیز سے جی چرائیں یو نہی رفتہ رفتہ مرض کو بڑھائیں یہی حال دنیا میں اس قوم کا ہے بھنور میں جہاز آکے جس کا گھرا ہے کنارہ ہے دور اور طوفان بپا ہے گماں ہے یہ ہر دم کہ اب ڈوبتا ہے نہیں لیتے کروٹ مگر اہلِ کشتی پڑے سوتے ہیں بے خبر اہلِ کشتی لیکن ہم ابھی تک سو رہے ہیں اور انتظار میں ہیں کہ الله کا حکم آ جائے کہ ہمیں تبدیل کر کے یہاں کسی اور قوم کو آباد کر دیا جائے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا لہذا اس کو کوئی ختم نہیں کر سکتا۔ اگر یہ سچ ہے کہ اللہ نے اس زمین کو کسی خاص مقصد کیلئے وجود بخشا ہے تو اللہ اتنی اہم زمین پر ہم جیسے بزدلوں، خودغرضوں، خواہشات کے غلاموں اور الله کے نافرمانوں کا وجود کبھی برداشت نہیں کریگا۔ پاکستان ضرور باقی رہے گا بلکہ اس کی حدود کشمیر سے لیکر کینیا تک پھیل جائیں گی لیکن یہاں موجود وہ لوگ جو عظیم مقصد کو پورا کرنے کے بجائے اس کی راہ میں رکاوٹ ہیں ان کو مٹادیا جائے گا اور اس ملک کو ایسے ہاتھوں میں دے دیا جائے گا جنہیں دیکھ کر 1947ء کے شہداء کی روحیں خوش ہو اٹھیں گی۔
..............................................................................................................................................................
No comments:
Post a Comment